اسرائیل نے لبنان میں معصوم پھولوں کو نشانے پر رکھ لیا، 200 سے زائد بچے شہید

لبنان کے بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی اور خوفناک واقعات کے براہ راست اثرات کا سامنا کر رہے ہیں


ویب ڈیسک May 15, 2026

یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق 2 مارچ سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے کے بعد لبنان میں بچوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 59 بچے یا تو جاں بحق ہوئے یا زخمی ہوئے، حالانکہ 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ہے۔

یونیسیف نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کے بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی اور خوفناک واقعات کے براہ راست اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان اور سرحدی علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے باعث ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جبکہ بچوں کی تعلیم، ذہنی صحت اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ادارے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور تمام فریقین بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کریں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

یاد رہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی غزہ جنگ کے بعد مزید بڑھ گئی تھی، جس کے نتیجے میں لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے اور راکٹ حملے معمول بن چکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مسلسل جنگ اور عدم استحکام لبنان میں ایک نئی انسانی بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔