عسکری دباؤ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، پاکستان کی ثالثی ابھی ناکام نہیں ہوئی: ایرانی وزیر خارجہ

مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب امریکا سنجیدگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرے، عباس عراقچی


ویب ڈیسک May 15, 2026

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ایران نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے والے عناصر ہیں، جبکہ سمندری گزرگاہ صرف اُن ممالک اور قوتوں کے لیے بند ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیانات میں کہا کہ ایران سفارتکاری اور مذاکرات کا حامی ہے، لیکن مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب امریکا سنجیدگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا فوجی کارروائی کو مسترد کرتا ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے اور 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے پر مکمل عمل بھی کر رہا تھا، تاہم امریکا پر اب بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا۔ ان کے مطابق جوہری افزودگی سے متعلق معاملات پر آئندہ مذاکرات کے مرحلے میں بات کی جائے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جو کچھ عسکری کارروائیوں سے حاصل نہیں کیا جا سکا، وہ مذاکرات کے ذریعے بھی زبردستی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران عزت اور برابری کی بنیاد پر بات چیت چاہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ بندی برقرار رکھنے اور سفارتکاری کو موقع دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ موجودہ مذاکرات اعتماد کے فقدان کا شکار ہیں۔

پاکستان کی ثالثی کوششوں کے حوالے سے عباس عراقچی نے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے جاری مصالحتی اقدامات ابھی ناکام نہیں ہوئے، اگرچہ انہیں مشکلات کا سامنا ضرور ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک ملک براہ راست جنگ میں ملوث ہے، تاہم اس کا نام نہیں لیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہے، سوائے اُن جہازوں کے جو ایران مخالف فوجی کارروائیوں میں شریک ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔