واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے مجھ سے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔
ائیر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے، ممکنہ طور پر یہ تعداد 750 تک جاسکتی ہے اسی طرح
چین اربوں ڈالر کی سویابین خریدنے جارہا ہے جس سے امریکی کسان بہت خوش ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کے لیے معطل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، ایرانی تیل خریدنے والی چینی کمپنیوں پر عائد پابندیاں اٹھانے سے متعلق فیصلہ کروں گا، ایران کے معاملے پر چینی صدر کے ساتھ مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ آبنائے ہرمز کھولنے کے خواہاں ہیں، چین کے مفاد میں ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے کیونکہ اس کی 40 فیصد تجارت وہاں سے گزرتی ہے، چینی صدر شی جن پنگ نے مجھ سے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ تائیوان سے متعلق چین کو کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی مجھے نہیں لگتا اس حوالے سے کوئی تنازع ہوگا، تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی باقی عسکری صلاحیتوں سے متعلق نیویارک ٹائمز کی رپورٹ ’’سنگین غداری‘‘ہے، ایران کے 80 فیصد میزائل نظام محفوظ رہنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں حاصل کرسکتا، ہم ایران جنگ مکمل طور پر جیت چکے ہیں، ایرانی فوج، فضائیہ اور قیادت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
ایران سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایران کے موصولہ جواب کا پہلا جملہ مجھے پسند نہیں آیا اس لیے میں نے اسے مسترد کردیا، ہم صرف دو دن میں ایران کے پاور پلانٹس ختم کرسکتے ہیں، ایران کا جوہری مواد چین یا امریکا منتقل کیا جاسکتا ہے، اگر میں اوباما کا جوہری معاہدہ معطل نہ کرتا تو ایران جوہری ہتھیار بناچکا ہوتا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اسٹارمر اپنی توانائی اور امیگریشن کی پالیسی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، وہ ایک اچھے آدمی ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے پاکستانی قیادت کی ایک بار پھر تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عظیم شخصیات ہیں۔