امدادی سامان غزہ لے جانے والی آئرلینڈ کی صدر کی ڈاکٹر بہن کو اسرائیل نے گرفتار کرلیا

ڈاکٹر مارگریٹ کونولی گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل تھیں


ویب ڈیسک May 18, 2026
آئرش صدر کی بہن ڈاکٹر مارگریٹ کونولی غزہ امدادی سامان لے جانے والے صمود فلوٹیلا میں شامل تھیں

آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی کی بہن مارگریٹ غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے میں شامل تھیں جب انھیں اسرائیلی فورسز نے تحویل میں لے لیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات غزہ کے لیے روانہ ہونے والے عالمی امدادی مشن “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے منتظمین نے بتائی جن کے قافلے میں متعدد کشتیاں شامل تھیں۔

مارگریٹ کونولی بھی اُن ہی متعدد کشتیوں میں سے ایک میں موجود تھیں جنھیں قبرص سے تقریباً 70 میل دور بین الاقوامی سمندری حدود میں اسرائیلی فورسز نے روک لیا۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی کارروائی کے بعد کشتیوں پر موجود افراد سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

ایک ویڈیو پیغام میں مارگریٹ کونولی نے بتایا کہ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی قابض افواج نے مجھے فلوٹیلا میں موجود میری کشتی سے اغوا کر لیا اور اب مجھے غیرقانونی طور پر اسرائیلی جیل میں رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی کی بہن مارگریٹ کونولی پیشے کی اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور شہر گالوی کی رہائشی ہیں۔ وہ بطور طبیب قافلے کا حصہ تھیں تاکہ غزہ میں طبی سہولیات فراہم کرسکیں۔

صدر کیتھرین کونولی نے آئرش زبان کے ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنی بہن پر فخر ہے۔ میں ان کی سلامتی کے حوالے سے شدید فکرمند ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا جو انتہائی تشویشناک اور پریشان کن ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوسرز نے یہ گرفتاری بین الاقوامی سمندری حدود میں کی ہے جو سفارتی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

غزہ فلوٹیلا کیا ہے؟

“گلوبل صمود فلوٹیلا” ایک بین الاقوامی امدادی بحری مہم ہے جس کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔

اس قافلے میں مختلف ممالک کے کارکن، ڈاکٹرز، انسانی حقوق کے کارکن اور سماجی شخصیات شامل تھیں۔ اسرائیل ماضی میں بھی غزہ جانے والے امدادی بحری قافلوں کو روک چکا ہے۔

اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہوتا ہے کہ غزہ کی بحری ناکہ بندی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ضروری ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔