سچّی اور بے لاگ بات تو یہ ہے کہ پچھلی چھ دہائیوں میں صحافت کا سب سے معتبر حوالہ اور جیّد نام وہی تھا جسے تین دن پہلے منوں مٹی تلے اُتار دیا گیا۔ کئی لوگوں کی وفات پر جب ایسے جملے پڑھتے یا سنتے تھے کہ مرحوم ایک فرد نہیں ادارہ تھے، تو بالکل رسمی اور بے جان سے لگتے تھے، مگر میدانِ صحافت میں یہی جملہ مکمل سچائی کے ساتھ کسی پر ہزار فیصد جچتا ہے تو وہ ملک کے عظیم دانشور اور بے مثل نثر نگار محترم الطاف حسن قریشی صاحب ہیں۔
صرف مداح ہی نہیں، ان سے اختلاف کرنے والے بھی دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور اعلان کررہے ہیں کہ وہ ایک فرد نہیں ایک درسگاہ تھے، جہاں علم و دانش کے سیکڑوں پیاسے داخل ہوئے اور اپنی پیاس بجھا کر اور علم و ادب کے موتی چن کر نکلتے گئے۔ ان کی تربیّت گاہ سے نکلے ہوئے درجنوں افراد قومی سطح کے اخبارات و رسائل کے مدیر بنے۔ قریشی صاحب ایک جینئس تھے جنھوں نے صحافت میں جدید رجحانات متعارف کرائے، انھوں نے ہر قلم بردار پر واضح کردیا کہ صحافت صرف سنسنی خیزی کا نام نہیں، یہ ایک مقدّس مشن ہے ، یہ باوضو ہوکر قلم اُٹھانے اور حرف کی حرمت قائم رکھنے کا نام ہے، انھوں نے یہ بھی ثابت کردیا کہ صحافت صرف خبر کی فراہمی کا نام نہیں، یہ تہذیبی شعور کو اجاگر کرنے اور ملّی اقدار کی پاسبانی کا نام بھی ہے۔
ان کی صحافت فدویانہ نہیں بیباکانہ تھی اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پچھلی نصف صدی میں کوئی دوسرا الطاف حسن قریشی پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی نظر آتا ہے۔ صحافت، جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا نام بھی ہے، تاریخ گواہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی فاشسٹ حکمرانی میں جس قافلے نے حق کا پرچم بلند کیا، اس کے قافلہ سالار بھی الطاف حسن قریشی تھے، جو بھٹو کے جبر کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہے۔ کئی بار جیل میں ڈالے گئے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر ان کے پائے استقامت میں کبھی لزرش پیدا نہ ہوئی۔ بلاشبہ وہ سالارِ صحافت بھی تھے اور بابائے صحافت بھی۔
انھوں نے عسرت میں آنکھ کھولی مگر مالی تنگدستی نہ کبھی ان کا حوصلہ پست کرسکی اور نہ ہی ان کے عزم کی راہ میں رکاوٹ بن سکی۔ انھیں مزدوری بھی کرنا پڑی اور کلرکی کرکے بھی پیٹ پالنا پڑا مگر ان کا اصل میدان بہت وسیع اور منزل بہت بلند اور ارفع تھی، جس کے لیے وہ جہدِ مسلسل کی تصویر بن گئے، وہ آدھی رات کا چراغ بھی جلاتے رہے اور خونِ جگر بھی، اخلاص سے کی گئی محنتِ پیہم سے ان کے جوہر کھلنے لگے اور وہ ہر امتحان میں اوّل پوزیشن حاصل کرکے آگے بڑھتے گئے اور بالآخر انھوں نے معروف انگریزی ماہنامے ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پر اردو ڈائجسٹ شائع کرنے کی ٹھان لی۔
خداداد صلاحیتوں کے علاوہ سخت محنت اور ریاضت سے الطاف صاحب نے لفظوں کی جادوگری کا ایسا فن سیکھ لیا کہ ان کی انگلیوں سے نکلے ہوئے الفاظ پڑھنے والوں پر سحر طاری کردیتے۔ یہ اردو ڈائجسٹ کے مدیر مسؤل کی جادوگری اور سحر طرازی کا کرشمہ تھا کہ اس ماہنامے کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی جو صحافت کی دنیا کا ایک نیا ریکارڈ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اردو ڈائجسٹ ملک کے ہر پڑھے لکھے گھرانے کا فرد (family member) بن گیا، گھر کے مکینوں کو اپنے پیاروں کے خطوں اور عید کارڈوں کی طرح اردو ڈائجسٹ کا شدت سے انتظار رہتا تھا۔
اردو ڈائجسٹ سے عشق کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ صرف ایک رسالہ نہیں تھا، وہ ہماری ملّی، سماجی اور معاشرتی اقدار کا امین اور ہمارے فکری اور نظریاتی قلعے کا محافظ تھا، وہ سلیقے سے بات کرنے اور شائستگی سے اختلاف کرنے کا قرینہ سکھانے والا استاد اور معلّم بھی تھا، اور وہ پاکستان کے کروڑوں باشندوں کو راستہ اور منزل دکھانے والا مینارۂ نور بھی تھا۔ الطاف صاحب کی تحریروں نے میری طرح کے لاکھوں نوجوانوں کو inspire کیا اور ان کے اندر نہ صرف اچھی نثر پڑھنے کا ذوق پروان چڑھایا، بلکہ لکھنے پر بھی آمادہ کیا۔
الطاف حسن صاحب کے دل ودماغ اوائل عمر سے ہی خالقِ کائنات کے پیغامِ حق سے منوّر ہوچکے تھے، بھٹو دور میں جب سیاسی مخالفین پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تو الطاف صاحب نے نہ صرف ڈرنے سے انکار کردیا بلکہ انھوں نے فکری اور نظریاتی محاذ کی کمان سنبھال لی اور پھر انھوں نے جبر کا اس شان سے مقابلہ کیا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ پیپلز پارٹی کے دوستوں کے سامنے بھٹو دور کے مظالم کا ذکر کیا جائے تو انھیں شرمندگی سے منہ چھپانا پڑتا ہے۔
حق کا پرچم اٹھانا کبھی بھی آسان کام نہیں رہا، ستر کی دہائی میں تو یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا تھا۔ اس قافلۂ حق میں سے کچھ ٹوٹ بھی گئے، کچھ واپس لوٹ گئے، مال وزور سے محبت کرنے والوں نے چلتے چلتے راستہ تبدیل کرلیا اور کچھ لوگ ہوسِ لقمۂ تر کی خاطر لہجے کا جلال اور عوام کا اعتماد کھو بیٹھے، مگر انتہائی کٹھن حالات میں بھی الطاف حسن قریشی صاحب نے اسلامی نظریۂ حیات کا پرچم بلند رکھا اور اسے کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا۔ انھوں نے قلم کو ذریعۂ زر نہ بننے دیا، سادہ زندگی بسر کی مگر حرف کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی۔
نوجوانی میں راقم نے اگر کسی صحافی کو آئیڈیلائز کیا تو وہ الطاف حسن قریشی صاحب تھے۔ زمانۂ طالب علمی میں انھیں صرف دور سے دیکھنے اور سننے کے مواقع ملتے رہے ، اور پھر یوں ہوا کہ میں تعلیم مکمّل کرنے کے بعد پولیس سروس میں چلاگیا تو اردو ڈائجسٹ سے کسی حد تک تعلّق منقطع ہوگیا۔
پھر کچھ سالوں بعد ادھر ادھر پھرتا پھراتا شہرِ لاہور کا کوتوال بن کر لاہور تعینات ہوگیا۔ ایک روز آپریٹر نے بتایا سر! کوئی الطاف قریشی صاحب لائن پر ہیں، آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں، میں نے یہ کہتے ہوئے فوراً فون اٹھایا کہ انھیں پہلے لائن پر کیوں لائے ہو، انھوں نے ملاقات کے لیے میرے دفتر آنے کا عندیہ دیا تو میں نے کہا ’’بسم اللہ !آپ سے ملنا میرے لیے اعزاز ہوگا‘‘ اور پھر کوتوالِ شہر کافی دیر تک پورچ میں کھڑا ملاقاتی کا انتظار کرتا رہا، دفتر کا پورا عملہ بھی الرٹ تھا کہ آج ایس پی صاحب کے کوئی خاص مہمان ہیں، جن کے لیے وہ دفتر سے باہر نکل کر انتظار کررہے ہیں ورنہ یہاں تو وزیر بھی آتے ہیں تو انھیں دفتر میں ہی ریسیو کیا جاتا ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ میری آئیڈیل شخصیّت پہلی بار مجھ سے ملنے آئی تو میں ان کا کام نہ کرسکا کہ میرٹ نے اجازت نہ دی، مگر ان کی شفقت میں کوئی کمی نہ آئی، انھوں نے کئی بار گھر پر مدعو کیا اور مجھے کئی بار ان کے ہاں کھانا کھانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک بار انھیں کوئی ایوارڈ ملا تو میں نے لاہور کے پولیس کلب میں بہت بڑی تقریب منعقد کی جس میں آئی جی سمیت تمام سینئر افسران اور عطاء الحق قاسمی اور امجد اسلام امجد سمیت معروف شاعر اور ادیب شریک ہوئے، بعد میں بھی وہ راقم کی دعوت پر مختلف تقریبات میں تشریف لاتے رہے اور اپنی بے پناہ دانش سے سامعین کے قلب ودماغ منوّر کرتے رہے۔ پھر خالق و مالک نے وہ دن بھی دکھایا کہ ایک روز میرے فون کی گھنٹی بجی، میں نے اٹھایا تو آواز آئی میں الطاف قریشی بول رہا ہوں، میں نے انبساط سے سرشار ہوکر کہا ’’سر آپ کی آواز سن کر میں مسرّت وافتخار سے نہال ہوگیا ہوں۔‘‘
کہنے لگے’’میں آپ کے کالم پڑھتا ہوں ،آپ بہت اچھا لکھتے ہیں، اردو ڈائجسٹ کے لیے بھی لکھا کریں۔‘‘ مجھے دکھ ہے کہ میں مصروفیات کی باعث ایسا نہ کرسکا۔ زندگی کے آخری سالوں میں قلم فاؤنڈیشن کے عبدالستار عاصم صاحب نے ان کی کچھ کتابیں چھاپیں۔ الطاف صاحب اپنی ہر کتاب مجھے ضرور بھیجا کرتے تھے۔ ایک روز ان کا فون آیا’’آپ کو میری کتاب مل گئی ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’جی مل گئی ہے۔‘‘ پھر فرمایا ’’آپ اس کتاب پر تبصرہ بھی لکھیں۔‘‘ میں یہ بات سن کر لرز اٹھا، میں نے سوچا کہ اردو زبان کے سب سے بڑے نثر نگار کی کتاب پر میں تبصرہ لکھوں،میری کیا حیثیّت ہے، مگر انھوں نے زور دیا تو میں نے مشرقی پاکستان کے بارے میں ان کی کتاب پر کالم لکھا، جس پر انھوں نے بے حد پسندیدگی کا اظہار کیا۔
میں پچھلے ماہ لاہور گیا تو ان کے ہاں حاضری کا ارادہ کیا، مگر علامہ عبدالستار نے بتایا کہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہے، اس لیے ملاقات ممکن نہیں۔ اُن سے آخری ملاقات یاد آرہی ہے جب پچھلے سال ان کے قریب ترین دوست محترم جاوید نواز صاحب نے راقم کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا تو وہ قریشی صاحب کو بیڈ سے اٹھا کر (ایسا صرف جاوید نواز صاحب ہی کرسکتے تھے) کھانے پر لے آئے، جس میں محترم شامی صاحب ،سلیم منصور خالد، سجاد میر، سید تنویر تابش، حامد خان اور عابد سعید بھی شریک تھے۔ وہاں بھی ہم ان سے بہت کچھ سننا چاہتے تھے مگر وہ نقاہت کے باعث زیادہ باتیں نہ کرسکے۔
ہم دکھی اور دل گرفتہ ہیں کہ وطنِ عزیز کے فکری محاذ پر مامور سب سے سینئر جرنیل سے محروم ہوگئے ہیں، ملک کے نظریاتی قلعے کی حفاظت کے لیے کئی دہائیوں سے اُٹھنے والی مضبوط تلوار ٹوٹ گئی ہے۔ مگر اردو ڈائجسٹ کا قلعہ قائم و دائم ہے۔ ہم ان کے چاہنے والے امید رکھتے ہیں کہ عزیزم طیّب اعجاز اور سیّد عاصم محمود اس مقدّس قلعے کی دل وجان سے حفاظت کریں گے اور ان کے پوتے ایقان حسن کو اپنی محبّت اور شفقت سے نوازتے رہیں گے۔