غزہ کی ناکہ بندی توڑتے ہوئے انسانی بنیاد پر فلسطینیوں کو امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان کو اسرائیل کی قید سے رہائی کے بعد اسپین میں ایئرپورٹ پر پولیس نے بدترین تشدد کا نشانہ بنا دیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔
برازیل سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے رہنما اور اس سے قبل اسرائیل کی قید سے رہائی پانے والے تھیاگو اویلا نے ایکس پر ویڈیو جاری کی اور بتایا کہ شرم ناک! ہمارے فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسپین کے شہر باسک کے علاقے بلباؤ میں ایئرپورٹ پولیس نے حملہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان رضاکاروں کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ملکی واپس آرہے تھے۔
واقعے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب ایک رضاکار کے رشتے دار نے اپنے پیارے ملنے کے لیے رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی تو ایرٹزینٹزا (باسک کی خود مختار پولیس) نے اچانک اور حیرت انگیز طور پر تشدد شروع کردیا۔
تھیاگو نے کہا کہ جو لمحہ سکون اور اہل خانہ کے لیے خوشی کا باعث ہونا چاہیے تھا لیکن اس کو انتہائی ظالمانہ انداز میں خراب کردیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے ایک اور ویڈیو شیئر کی جس میں بلباؤ میں شہریوں کی جانب سے سخت ردعمل اور احتجاج کیا جا رہا ہے۔
بتایا گیا کہ باسک پولیس کی جانب سے بلباؤ ایئرپورٹ پر گلوبل صمود فلوٹیلا کے رضاکاروں پر حملے کے خلاف بلباؤ میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔
مظاہرین نے کا کہنا تھا کہ مظاہرے کا مقصد باسک سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اپنائے گئے تشدد کے رویے کی مذمت اور اس سے مسترد کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق باسک کے امور داخلہ کے محکمے نے ایئرپورٹ پر پیش آنے والے ناخوش گوار واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے، جس میں پولیس کے طرز عمل اور قواعد کی خلاف ورزی کا تعین کیا جائے گا۔