دشمن کی پراکسی جنگ اور ریاستی عزم دشمن کی پراکسی جنگ اور ریاستی عزم

دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کی جنگ نہیں ہوتی بلکہ یہ بیانیے، ذہن اور سماجی شعور کی جنگ بھی ہوتی ہے۔


ایڈیٹوریل May 26, 2026

پاکستان ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ریاستی رِٹ، قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے سوالات محض سیاسی مباحث نہیں رہے بلکہ قومی بقا کا عنوان بن چکے ہیں۔

بلوچستان سے خیبرپختونخوا تک پھیلتی دہشت گردی کی نئی لہر نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دشمن اب براہِ راست جنگ کے بجائے پراکسی وار، نفسیاتی یلغار اور داخلی انتشار کے راستے پاکستان کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کر رہا ہے۔ کوئٹہ کے چمن پھاٹک میں ہونے والا خودکش دھماکہ ہو یا بنوں کے میریان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، یہ تمام واقعات ایک ہی خونی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس کے تانے بانے سرحد پار بیٹھے اُن عناصر سے جا ملتے ہیں جو پاکستان میں عدم استحکام کو اپنی سیاسی ضرورت سمجھتے ہیں۔

 کوئٹہ میں ریلوے ٹریک کے قریب ہونے والا خودکش دھماکہ محض ایک دہشت گرد کارروائی نہیں بلکہ ایک گہری اور سفاک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس حملے میں معصوم شہری، عورتیں اور بچے نشانہ بنے۔ رہائشی آبادیوں کا متاثر ہونا، گھروں، گاڑیوں اور دکانوں کا تباہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر اب اپنے مذموم مقاصد کے لیے انسانیت کی ہر حد پار کر چکے ہیں، جو گروہ خود کو بلوچ عوام کا نمایندہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کی حقیقت ان دھماکوں کے بعد پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ بلوچ عوام کے حقوق کے نام پر نہتے انسانوں کا خون بہانا دراصل اُس دوغلے پن کا مظہر ہے جس کے پیچھے بیرونی ایجنڈا پوری شدت کے ساتھ کارفرما ہے۔

 یہ امر اب کسی راز کا محتاج نہیں رہا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔ دشمن قوتیں پاکستان کے جغرافیائی محلِ وقوع، سی پیک جیسے معاشی منصوبوں اور خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار سے خوفزدہ ہیں۔ اسی لیے بلوچستان کو بدامنی کی آگ میں دھکیلنے کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں تاکہ ترقی کا سفر روکا جا سکے اور سرمایہ کاری کا ماحول متاثر ہو۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی‘‘را’’کے کردار پر متعدد بار شواہد سامنے آ چکے ہیں، جب کہ افغانستان کی سرزمین بھی بدقسمتی سے کئی دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

پاکستان بارہا اس حوالے سے عالمی برادری کو متوجہ کرتا آیا ہے، مگر عالمی طاقتوں کی مصلحت آمیز خاموشی نے دہشت گردی کے اس ناسور کو مزید تقویت دی۔ فتنۃ الہندوستان کی حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ عناصر میدانِ جنگ میں شکست کے بعد اب نرم اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوجی چوکیوں یا تربیت یافتہ جوانوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہ رکھنے والے یہ بزدل گروہ اب مسافروں، مزدوروں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا کی جائے جس سے عوام کا ریاست پر اعتماد متزلزل ہو۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم نے ہر مشکل وقت میں دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ سانحات نے اس قوم کو کمزور نہیں بلکہ مزید متحد کیا ہے۔

عیدالاضحی جیسے مقدس اور بابرکت ایام کے قریب دہشت گردی کی وارداتیں اس بات کا اعلان ہیں کہ یہ عناصر مذہب، تہذیب اور انسانیت تینوں سے عاری ہیں۔ قربانی، ایثار اور اخوت کے پیغام کو خونریزی میں بدلنے کی کوشش دراصل اُس ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے جس میں دہشت گرد گروہ مبتلا ہو چکے ہیں۔ بلوچ عوام کی جانب سے اس بزدلانہ کارروائی کے خلاف شدید ردعمل اس حقیقت کو بھی آشکار کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا بلوچ معاشرے سے کوئی تعلق نہیں۔ بلوچستان کے باشعور اور محبِ وطن عوام امن، ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، جب کہ دہشت گرد صرف خون، نفرت اور انتشار کے سوداگر ہیں۔

دوسری جانب بنوں کے علاقے میریان میں پاک فوج، پولیس اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن ریاستی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم اور قربانیوں کا عملی ثبوت ہے۔ انتہائی دشوار گزار علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے نہ صرف اہم خوارجی سرغنوں کو ہلاک کیا بلکہ ان کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کیے۔ زمری نور اور افغان خوارجی سرغنہ عبداللہ سعید جیسے عناصر کا انجام یہ پیغام دیتا ہے کہ ریاست اب دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی نرمی یا مصلحت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر قوم کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ پوری قوم بلا تفریق ان اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کی جنگ نہیں ہوتی بلکہ یہ بیانیے، ذہن اور سماجی شعور کی جنگ بھی ہوتی ہے۔ دشمن کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جائے، صوبوں میں احساسِ محرومی کو ہوا دی جائے اور نسلی و لسانی تقسیم کو گہرا کیا جائے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا مقصد بھی یہی ہے کہ بلوچ عوام کو ریاست سے بدظن کیا جائے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اور ریاستی اداروں نے ہمیشہ بلوچستان کی ترقی، تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کو ترجیح دی۔ گوادر سے کوئٹہ تک ترقیاتی منصوبوں کا جال اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست بلوچستان کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں دیکھنا چاہتی ہے۔

 یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہشت گردی صرف سرحدوں سے دراندازی کے ذریعے نہیں پھیلتی بلکہ اس کے لیے اندرونی سہولت کار بھی استعمال ہوتے ہیں۔ بعض عناصر سیاسی، نسلی یا مذہبی نعروں کی آڑ میں نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت ابھارتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے زہریلا پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں۔

یہی وہ خاموش جنگ ہے جسے نظر انداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ریاست کو نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہوگی بلکہ ان کے فکری اور مالی نیٹ ورک کو بھی جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ دہشت گردی کے سہولت کار خواہ کسی بھی روپ میں ہوں، ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا وقت کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض حلقے غیر ذمے دارانہ تبصروں یا سنسنی خیزی کے ذریعے دشمن کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ذمے داری کا مظاہرہ کیا جائے، شہداء کی قربانیوں کو اجاگر کیا اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے۔ یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا الزام تراشی کا نہیں بلکہ قومی وحدت کا ہے۔ جب ریاست کو داخلی اور خارجی چیلنجز درپیش ہوں تو اختلافات کے باوجود قومی سلامتی پر ایک صفحے پر ہونا ہی دانشمندی ہے۔

افغانستان کی عبوری حکومت پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے، اگر کابل اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کرتا تو خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ برادرانہ تعلقات اور خطے کے استحکام کی بات کی، مگر اس خیرسگالی کو کمزوری سمجھنا سنگین غلطی ہوگی۔ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔

 اسی طرح عالمی برادری کو بھی دہرے معیار ترک کرنا ہوں گے۔ دہشت گردی اگر کسی مغربی ملک میں ہو تو اسے عالمی خطرہ قرار دیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں ہزاروں جانوں کے ضیاع کے باوجود اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان صرف اپنی جنگ نہیں لڑ رہا بلکہ خطے اور دنیا کے امن کی جنگ لڑ رہا ہے، اگر پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دی گئی تو اس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجی جوان، پولیس اہلکار، علما، اساتذہ، مزدور اور عام شہری اس جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔

ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی میں اب کسی ابہام یا کمزوری کی گنجائش نہ رہے۔‘‘اچھے’’اور‘‘برے’’دہشت گرد کی تقسیم نے ماضی میں جو نقصانات پہنچائے، اُن سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے والا ہر گروہ، ہر سہولت کار اور ہر پراکسی نیٹ ورک قانون کی گرفت میں آنا چاہیے۔ پاکستان کے دشمن شاید یہ سمجھتے ہیں کہ خونریزی، دھماکوں اور خوف کے ذریعے اس قوم کے حوصلے توڑے جا سکتے ہیں، مگر وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ یہ قوم آزمائشوں میں مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ کوئٹہ کے شہداء کا خون، بنوں میں جوانوں کی قربانیاں اور عوام کے حوصلے اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں ہوگا۔ ریاستی اداروں کی مسلسل کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو انجام تک پہنچا کر ہی دم لیا جائے گا۔

یہ جنگ طویل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ قومی وحدت، سیاسی بصیرت اور ریاستی عزم میں کوئی دراڑ نہ آنے دی جائے۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خوف کے بجائے اعتماد، تقسیم کے بجائے اتحاد اور مایوسی کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں۔ پاکستان کے امن، استحکام اور بقا کی خاطر دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا وقت کی سب سے بڑی قومی ضرورت ہے۔ یہی شہداء کے خون کا تقاضا ہے، یہی قوم کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے اور یہی پاکستان کی فتح کا راستہ بھی۔