یہ مصنوعی مہنگائی ہے

یہ سارا شور شرابہ منفی ذہنیت والوں کی منفی سوچ کی منفی تنقید ہے جو گلاس کو ’’آدھا خالی‘‘ دیکھتے ہیں اور ’’آدھا بھرا‘‘ نہیں دیکھتے۔


[email protected]

یہ سارا شور شرابہ منفی ذہنیت والوں کی منفی سوچ کی منفی تنقید ہے جو گلاس کو ’’آدھا خالی‘‘ دیکھتے ہیں اور ’’آدھا بھرا‘‘ نہیں دیکھتے۔ اس بات کی تشریح ایک مرتبہ بجلی نے بھی کی تھی کہ لوگ میرا بیس مرتبہ’’ جانا‘‘ دیکھتے ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ میں انیس مرتبہ آتی بھی تو ہوں۔بلکہ ڈاکٹر قضا کو بھی یہی شکایت ہے کہ میرے ہاتھوں ایک مریض مرتا ہے تو لوگ شور مچا دیتے ہیں اور دس مریض زندہ جاتے ہوئے نہیں دیکھتے۔یہ بات ہم نے مصنوعی مہنگائی پر لوگوں کے واویلے دیکھ کر کہی ہے حالانکہ ان کو اچھی طرح معلوم ہے اور حکومت بار بار کہتی بھی ہے کہ یہ مصنوعی مہنگائی ہے بلکہ پاکستان میں یہی تو ایک ایسی صنعت ہے جو برابر چل رہی ہے اور اس میں کبھی کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ گزشتہ پون صدی میں یہ صنعت اتنی پھلی پھولی ہے کہ شہر شہر گلی گلی کوچے کوچے اور دکان دکان پہنچ چکی ہے۔جیسے ایک زمانے میں سوئٹزر لینڈ گھڑیوں کی صنعت کے لیے مشہور تھا وہاں ہر ہر گھر گھڑی کا کوئی نہ کوئی پرزہ تیار ہوتا تھا جسے جمع کرکے بڑے صنعتکار گھڑی اسمبل کرکے دیتے تھے۔ ہمارے ہاں بھی حکومت کے تعاون سے ہر کوئی مہنگائی کی صنعت میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔گزشتہ دنوں ہم نے ایک مزدور سے گندم کی کٹائی میں دہری مہنگائی کا سبب پوچھا تو اس نے پیٹرول اور ڈیزل کی مہنگائی کو اس کی وجہ قرار دیا حالانکہ ہم نے اس کے کاندھے پر رکھی ہوئی درانتی کو دیکھا تو اس میں کہیں بھی کوئی پیٹرول یا ڈیزل سے چلنے والا انجن نظر نہیں آیا۔خیر یہ تو بڑا محنت طلب کام ہے ہم کس کس چیز میں کہاں کہاں ڈیزل اور پیٹرول کے انجن ڈھونڈیں گے۔

لوہار کے ہتھوڑے میں، مستری کے پیچ کس پلاس میں، ترکان کے بسومے میں موچی کے کھرلے میں،حجام کے استرے میں اور نسوار بنانے والے کے کھرل میں۔بہرحال پاکستان میں مہنگائی کی صنعت واحد صنعت ہے جسے حکومت اور اس کے اداروں کے تعاون سے بام عروج پر پہنچایا گیا اس لیے مہنگائی کو مصنوعی کہنا بجا ہے۔لیکن بات ہم آدھے بھرے ہوئے گلاس کی کررہے تھے جس کا کوئی ذکر تک نہیں کرتا اور آدھے خالی گلاس پر شور مچارہے ہیں۔اور ہم یہی ثابت کرنا چاہتے کہ اگر گلاس آدھا خالی ہے تو آدھا بھرا ہوا بھی تو ہے۔  چلیے آپ ہمیں یہ بتادیں کہ دنیا میں قیمتی ضروری اور کثیرلاستعمال چیزیں کیا ہیں ؟آپ کو یقیناً پتہ نہیں ہوگا تو ہم ہی بتائے دیتے ہیں اول انسان، دوم پیسہ اورسوم وقت۔وقت کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ ٹائم ازمنی۔بلکہ پیسہ آپ دوبارہ کماسکتے ہیں لیکن خرچ کیا ہوا وقت اور انسان دوبارہ واپس نہیں لاسکتے اور یہ تینوں چیزیں پاکستان میں سب سے زایدہ سستی ہیں اور پاکستان میں اتنی نہایت بے دردی اور وسیع پیمانے پر’’خرچ‘‘ کی جاتی ہیں کہ اتنی تیل بردار ملک میں تیل،ملائیشیا میں پام آئل اور امریکا میں ٹرمپ بھی خرچ نہیں کیے جاتے ہوں گے۔اگر آپ اخبار پڑھتے ہیں تو کبھی کبھی اگر ’’بیانات‘‘ سے تھوڑی بہت جگہ بچی ہوتی ہے تو اس میں اتنے کشتی میں ڈوب گئے۔

اتنے کنٹینروں میں دم گھٹ کر’’خرچ‘‘ ہوگئے اتنے کسی کان میں دب کر مُکھ گئے۔اور یہاں اسکولوں اور بازاروں میں تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس کس طرح خرچ ہوتے رہتے ہیں اس سے زیادہ’’ سستائی‘‘ اور کیا ہوسکتی ہے اور وہ جو عرب ممالک یا دوسرے ممالک میں جانوروں کی جگہ استعمال کیے جاتے ہیں وہ الگ۔ اب دوسری قیمتی چیز’’وقت‘‘ کو لے لیجیے یہ تو اتنے وسیع پیمانے پر حاتم طائی بن کر خرچ کیا جاتا ہے کہ جیسے ہر کوئی اسی مقصد کے لیے جی رہا ہو کہ وقت کو کہاں کہاں کیسے کیسے خرچ کرے۔وہ جو تقریبات میں خاص لوگ اسے خرچ کرتے ہیں یا دھرنوں جلسوں اور جلوسوں میں اڑاتے ہیں وہ تو کچھ بھی نہیں دو تین گھنٹے دیر سے آنا تو گویا ان کا منصبی فرض ہوتا ہے، جبسے اہل کاروں کو تنخواہ اسی بات کی ملتی ہو کہ وقت کو وسیع پیمانے پر خرچ کیا جائے۔اگر آپ کو معلوم نہیں تو ذرا پتہ لگانے کی کوشش کریں کہ اکثر اداروں میں جو’’بورڈز آف ڈائریکٹرز‘‘یا سیاسی اسٹینڈنگ کمیٹیاں ہوتی ہیں وہ کس کمال ہنرمندی سے وقت کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کرتی ہیں۔

ایک ادارے کے ایک فرد نے ہمیں بتایا کہ ہمارے ادارے کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے جس میں ریٹائرڈ شہزادے شامل ہیں جب بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ ہوتی ہے جو مہینے میں ایک دو مرتبہ ضرور ہوتی ہے اور اس کے ممبر لاہور،اسلام آباد اور کراچی سے سرکاری خرچ پر تشریف لاتے ہیں اور معاوضہ بھی دیا جاتا ہے، ایسی میٹنگ میں تشریف لانے والے بڑے آرام سے کوئی ایسا شوشہ نکالتے ہیں کہ اس پر’’غور‘‘ کرنے کے لیے ایک بلکہ دو چار اور میٹنگیں ضروری ہوجاتی ہیں۔ اس لیے چائے اور کھانے پر ڈھائی تین لاکھ خرچ کرنے کے بعد ملتوی ہوجاتی ہیں جس میں دفتر کے اہل کار بھی اپنا حصہ شامل کرکے ڈبل کردیتے ہیں۔ رہا تیسرا متاع عزیز منی عرف پیسہ اس کی سستائی کا تو یہ عالم ہے کہ ’’سکے‘‘ تو کوئی مفت بھی نہیں لیتا بلکہ اتنا قصہ پارینہ ہوگئے ہیں کہ کوئی ان کو پہچانتا بھی نہیں اور کرنسی میں دس روپے کو قبول کرنے سے بچوں اور بھکاریوں نے بھی انکار کردیا ہے آخر اس سے زیادہ سستائی کیا ہوگی۔

وہ ڈالر اور پونڈوں، ریالوں اور یورو کو تو ایک طرف کردیجیے اڑوس پڑوس میں بھی انتہائی مہنگی ہوتی جارہی ہے جب کہ ہمارے لیڈروں کی مہربانی سے اور آئی ایم ایف کی اشیرواد کی وجہ سے اتنی سستی ہوچکی ہے کہ شاید ردی کاغذ بھی اس سے کئی گنا زیادہ مہنگے ہوں گے۔اب آپ ہی انصاف بلکہ تحریک انصاف سے کام لیجیے اور بتائیے کہ خواہ مخواہ یہ منفی ذہنیت کے لوگ مصنوعی مہنگائی کا شور شرابا ڈال کر اچھا کررہے ہیں َ نہیں یہ بہت بُرا کررہے ہیں بہت بے انصافی کررہے ہیں۔ اگر مہنگائی ہے جو مصنوعی بھی ہے اس کے مقابل حقیقی سستائی کو دیکھا جائے تو گلاس آدھا بھراہوا ہے، بجلی بیس بار جاتی ہے تو انیس بار آتی بھی تو ہے اگر آٹا گھی چاول دال سبزیاں مہنگی ہیں تو انسان، وقت اور سکہ سستے بھی تو ہیں۔