اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے دیوانی مقدمات میں ٹرائل کورٹ کے سامنے دعویٰ اور جوابِ دعویٰ تیار کرنے کے لیے رہنما اصول جاری کر دیے ہیں۔
ایک دیوانی مقدمے میں نظرثانی کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس شاہد بلال حسن کے تحریر کردہ 26 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ جوابِ دعویٰ عام طور پر پہلی سماعت پر یا اس سے پہلے دائر کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے التوا صرف معقول وجہ پر ہی دیا جائے گا۔
فیصلے کے مطابق دائر کرنے کی مدت عام طور پر تیس دن سے زیادہ نہیں ہوگی اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں قانون کے مطابق نتائج بھگتنا ہوں گے۔
جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ نے حکم دیا کہ ان رہنما اصولوں کے مؤثر نفاذ کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ اس فیصلے کو تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو بھیجا جائے ایک کاپی تمام متعلقہ بار ایسوسی ایشنز کو بھی بھیجی جائے۔
ضلعی عدالت ہدایات پر تعمیل کی نگرانی کرے گی۔ مدعا علیہ کارروائی کے دوران تعمیلِ نوٹس کے لیے ایک پتہ بھی فراہم کرے گا۔
جوابِ دعویٰ کو ضابطہ دیوانی 1908 کے آرڈر VI اور VIII میں موجود دعوے اور جوابِ دعویٰ کے عمومی قواعد کے مطابق ہونا چاہیے۔