جاپان کی آبادی میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی گھٹ کر 12 کروڑ 30 لاکھ سے بھی کم رہ گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کی آبادی کی حالیہ شرح کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبادی میں کمی کی بڑی وجوہات میں شرحِ پیدائش کا مسلسل کم ہونا، نوجوانوں میں شادی اور بچوں کی تعداد کم رکھنے کا رجحان اور تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی شامل ہیں۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں بزرگ افراد کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔
حکومت نے پیدائش کی شرح بڑھانے کے لیے مالی مراعات، بچوں کی نگہداشت کی سہولیات اور خاندانی معاونت کے مختلف پروگرام متعارف کرائے ہیں، تاہم اب تک ان اقدامات کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔
آبادی میں کمی کے باعث جاپان کو مستقبل میں افرادی قوت کی قلت، معاشی نمو میں سست روی، سماجی بہبود کے اخراجات میں اضافے اور دیہی علاقوں کے خالی ہونے جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں ملک کی آبادی مزید کم ہونے کا امکان ہے۔