میڈیا کا سفر

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ میڈیا کبھی بھی محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں رہا۔



تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ میڈیا کبھی بھی محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں رہا۔ یہ ہمیشہ طاقت، نظریے، سیاست اور ثقافت کے بیچ ایک ایسا پل رہا ہے جس پر چل کر کبھی عوام کی رائے بنتی ہے اور کبھی رائے کو بنایا جاتا ہے۔

میڈیا پر تنقید کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود میڈیا کی تاریخ۔ تاہم اس تنقید کا انداز ہر دور میں بدلتا رہا ہے۔ کہیں اسے’’حقیقت کو مسخ کرنے والا آئینہ‘‘ کہا گیا، کہیں’’پروپیگنڈا مشین‘‘ ، کہیں ’’ثقافتی سامراج‘‘ اور کہیں’’نقلی حقیقت کی فیکٹری۔‘‘یہ فکری سفر ہمیں صرف میڈیا کی نہیں بلکہ انسانی شعور کی ارتقاء کی کہانی بھی سناتا ہے۔20ویں صدی کے ابتدائی حصے میں جب اخبارات اور ریڈیو عوامی زندگی پر حاوی ہونے لگے تو سب سے پہلے سوال یہی اٹھا کہ کیا ہم واقعی حقیقت دیکھ رہے ہیں؟

والٹر لیپ مین نے اپنی مشہور کتاب ’’پبلک اوپئنین‘‘ میں ایک نہایت اہم اور چونکا دینے والا تصور دیا۔ ان کے مطابق میڈیا اصل حقیقت کو پیش نہیں کرتا بلکہ ایک’’مصنوعی ماحول’’یعنی  Pseudo environment تخلیق کرتا ہے۔ مطلب عوام جس دنیا کو’’حقیقت‘‘سمجھتے ہیں، وہ دراصل میڈیا کی بنائی ہوئی تصویر ہوتی ہے۔ اس تصور نے میڈیا کو ایک آئینہ نہیں بلکہ ایک’’ مصنوعی مصور‘‘بنا کر پیش کیا۔یہ تنقید آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھتی ہے، خاص طور پر اس دور میں جب ڈیجیٹل میڈیا حقیقت اور فریب کے درمیان لکیر مزید دھندلی کر چکا ہے۔

 اسی زمانے میں ایک اور مفکر ہیرالڈ لازویل نے میڈیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھا۔ ان کے مطابق میڈیا صرف معلومات نہیں بلکہ پروپیگنڈا کا طاقتور ہتھیار ہے۔ان کا مشہور سوال۔

’’Who says What, in Which Channel, to Whom, with What Effect?‘‘

 یہ سوال آج بھی میڈیا اسٹڈیز کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے تجربات نے یہ ثابت کیا کہ میڈیا رائے عامہ کو صرف متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے منظم بھی کر سکتا ہے۔ گویا میڈیا ایک ’’نرم طاقت‘‘سے ’’ نفسیاتی ہتھیار‘‘میں تبدیل ہو گیا۔اسی فکری سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹیوڈور ایڈورنو اور میکس ہوک ہائمر نے ’’کلچر انڈسٹری‘‘ کا تصور پیش کیا۔ان کے مطابق جدید میڈیا،فلم، ریڈیو اور اشتہارات وغیرہ بظاہر تفریح فراہم کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ انسانی شعور کو ایک خاص سانچے میں ڈھالتے ہیں۔یہ تنقید ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے ،کیا ہم تفریح کر رہے ہیں یا ہمیں’’تفریح کے ذریعے کنٹرول‘‘کیا جا رہا ہے؟ان کے نزدیک میڈیا افراد کو تخلیقی سوچ سے محروم کردیتا ہے۔

بہر حال ہر مفکر میڈیا کو اتنا طاقتور نہیں سمجھتا تھا۔ پاؤل لازارسفیلڈ اور ان کے ساتھیوں نے تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ میڈیا کے اثرات’’محدود‘‘ہیں نیزمیڈیا براہ راست ذہن تبدیل نہیں کرتا، اثرات بالواسطہ اور پیچیدہ ہیں۔

یہ نظریہ دراصل ابتدائی‘‘میجک بُلٹ’’تصور کے خلاف ایک مضبوط علمی دلیل تھا۔

رابرٹ مارٹن نے ایک دلچسپ مگر تشویشناک تصور پیش کیا جسے Narcotizing Dysfunction کہا جاتا ہے۔رابرٹ کے مطابق زیادہ معلومات انسان کو باشعور نہیں بلکہ غیر فعال بنا دیتی ہے۔ لوگ معلومات سن کر سمجھتے ہیں کہ انھوں نے کچھ کر لیا ہے جس کے نتیجے میں عملی سرگرمی کم ہو جاتی ہے۔یہ آج کے سوشل میڈیا دور میں اور بھی زیادہ متعلقہ محسوس ہوتا ہے۔

1950 سے 1970کے دور میں تنقید مزید وسیع ہوئی۔ سی۔ رائٹ۔ ملز نے کہا کہ میڈیا طاقتور اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے جو عوامی رائے کو اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہے۔ ڈینل۔ جے۔ بروسٹن نے‘‘Pseudo-events’’کا تصور دیا، یعنی ایسے واقعات جو حقیقت میں نہیں بلکہ میڈیا کوریج کے لیے تخلیق کیے جاتے ہیں۔

 مارشل میکلو ہن نے ایک انقلابی جملہ دیا’’ The Medium is the Message‘‘۔  میکلوہن کے مطابق میڈیا کا اثر اس کے مواد سے زیادہ اس کی شکل اور نوعیت میں ہوتا ہے۔اسی طرح ہربرٹ آئی شیلر نے ’’میڈیا ایمپیریل ازم‘‘ کا تصور دیا، جس کے مطابق مغربی میڈیا دنیا کی ثقافتوں پر غلبہ حاصل کر رہا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اب مغربی لباس ہی نہیں کھانے پینے کا کلچر بھی دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، جس کی مثالیں مغربی کلچر کے معروف کھانے ہیں جو پاکستان جیسے ملک کے لوئر مڈل کلاس علاقوں میں بھی مقبول دکھائی دیتے ہیں۔

فرانسسی فلسفی گائے ڈیبور نے کہتا ہے کہ جدید معاشرہ دراصل’’ تماشہ‘‘ بن چکا ہے جہاں حقیقت کی جگہ تصاویر لے چکی ہیں۔

1970 کے بعد میڈیا تنقید میں ایک بڑا فکری انقلاب آیا۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ میڈیا کیا کرتا ہے، بلکہ یہ کہ میڈیا معنی کیسے پیدا کرتا ہے؟ چنانچہ اسٹورٹ ہال نے ’’ ان کوڈنگ/ ڈی کوڈنگ‘‘ ماڈل پیش کیا جس کے مطابق میڈیا کا پیغام ایک جیسا اثر نہیں ڈالتا بلکہ ہر ناظر اپنی سماجی حالت کے مطابق معنی اخذ کرتا ہے۔یہ نظریہ میڈیا کو’’یکطرفہ طاقت‘‘کے بجائے’’معنی کا میدان‘‘بنا دیتا ہے۔ دوسری طرف نوم چومسکی اور ہرمین نے اپنی کتاب ’’ مینو فیکچرنگ کونسینٹ ‘‘میں کہا کہ میڈیا ایک منظم پروپیگنڈا سسٹم ہے۔

ان کے مطابق میڈیا پانچ فلٹرز کے ذریعے کام کرتا ہے یعنی ملکیت، اشتہارات، ذرائع، ردعمل اور نظریاتی حدود۔یہ نظریہ جدید دور میں میڈیا اور طاقت کے تعلق کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ میڈیا آزاد نہیں اور وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جین بودریلار نے ایک انتہائی گہرا تصور Hyperrealityپیش کیا جس کے مطابق میڈیا اصل حقیقت کو ختم کر دیتا ہے نتیجے میں اس کی جگہ ایک’’نقلی حقیقت‘‘لے لیتی ہے اور لوگ یہ فرق نہیں کر پاتے کہ اصل کیا ہے اور مصنوعی کیا۔یہ تصور آج کے ڈیجیٹل، سوشل میڈیا اور ورچوئل دنیا میں غیر معمولی طور پر نظر آتا ہے۔