کرپشن و بے ضابطگیوں کا سرطان

کرپشن اور بے ضابطگیوں سے یوں تو کوئی محکمہ محفوظ نہیں اور آئے دن آڈٹ رپورٹس میں ان کی نشان دہی بھی کی جاتی ہے مگر ہوتا کچھ نہیں۔


[email protected]

اسلام آباد سے جاری ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 18 سال گزر جانے کے بعد بھی کوئی سروس انفرااسٹرکچر ہی موجود نہیں اور یہ پروگرام 2008 میں پی پی کی وفاقی حکومت میں شروع کیا گیا تھا ۔اس ادارے کو اب بھی پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما چلا رہی ہیں اور اس ادارے کی حیثیت ایک محکمے کی ہے جہاں ڈائریکٹروں سے ایک ڈرائیور تک کے سرکاری ملازمین 18 سال سے ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں۔

اس انکشاف کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و معاشرتی تحفظ نے مستقل بھرتیوں سے متعلق سمری وزارت خزانہ کو بھجوانے کی ہدایت کر دی ہے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری نے بتایا کہ منظور شدہ آسامیوں پر بھی بھرتی نہیں ہو سکی ہے اور سب ملازم ڈیپوٹیشن پر ہیں۔ایڈیشنل سیکریٹری عامر علی احمد جن کا تعلق بی آئی ایس پی پروگرام سے ہے نے بتایا کہ اس ماہ جولائی سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مکمل ڈیجیٹل ہو جائے گا۔ ڈیجیٹل ہو جانے کے بعد اس پروگرام کے مستحقین کو پیسے وصول کرنے کے لیے کسی بینک، ایزی پیسہ، جاز کیش اور یو فون پیسہ کا آپشن مل جائے گا۔

اس پروگرام کو شروع کرنے والی پیپلز پارٹی کی 5 سال وفاقی حکومت رہی، جس نے غریبوں کے لیے یہ پروگرام شروع تو کرایا تھا مگر اس کے ملازمین کے لیے سروس اسٹرکچر نہیں دیا تھا اور 18 سال سے تمام ملازمین ڈیپوٹیشن پر کام کر رہے ہیں۔ 2013 میں (ن) لیگی حکومت نے بھی اس پروگرام کو جاری رکھا جو پیپلز پارٹی کی خوشنودی کے لیے تھا جس کے بعد 2018 میں پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی سیاسی مجبوری میں یہ پروگرام جاری رکھا مگر احساس پروگرام کا لاحقہ بھی شامل کر دیا مگر ختم نہ کر سکی تھی۔

اپریل 2022 سے ملک میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومت چل رہی ہے مگر پھر بھی یہ پروگرام کسی سروس انفرااسٹرکچر کے بغیر چل رہا ہے جس میں پیپلز پارٹی کی سیاسی دلچسپی کی وجہ سے (ن) لیگی حکومت ہر بجٹ میں اس پروگرام کی رقم مسلسل بڑھاتی آ رہی ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق اب یہ پروگرام وزارت کے طور پر چل رہا ہے جس کی سربراہ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور بجٹ میں اب بے نظیر انکم سپورٹ کے لیے وفاقی حکومت نے 812 ارب رقم مختص کی ہے۔

اس پروگرام کی جماعت اسلامی، ایم کیو ایم و دیگر جماعتیں مخالف اور پیپلز پارٹی حامی ہے جب کہ پی ٹی آئی بھی اس پروگرام کو سیاسی رشوت قرار دیتی ہے جس میں کرپشن کی شکایات مسلم لیگ (ن) اور تمام مخالفین کرتے آ رہے ہیں مگر موجودہ حکومت پی پی کو ناراض کرنا نہیں چاہتی جس سے پی پی کا سیاسی فائدہ اور ووٹ بینک بھی بڑھ رہا ہے۔

کرپشن اور بے ضابطگیوں سے یوں تو کوئی محکمہ محفوظ نہیں اور آئے دن آڈٹ رپورٹس میں ان کی نشان دہی بھی کی جاتی ہے مگر ہوتا کچھ نہیں۔ سندھ کے ایک ادارے کے سابق گرفتار سربراہ پر ساڑھے آٹھ ارب روپے کا کیس چل رہا ہے جس میں مذکورہ گرفتار بڑے افسر کا کہنا ہے کہ یہ کرپشن نہیں بے ضابطگی کا کیس ہے اور انھوں نے یہ رقم ایک ٹھیکیدار کو ایڈوانس کے طور پر دی تھی جس کو لینے والا تسلیم بھی کر رہا ہے کہ اس نے رقم لے کر کام شروع نہیں کرایا تھا۔ افسر کی گرفتاری کے بعد مذکورہ ٹھیکیدار نے قسطوں کی صورت میں وہ رقم واپس کرنا بھی شروع کر دی ہے۔ گرفتار افسر نے اتنی بڑی رقم ٹھیکیدار کو ایڈوانس کے طور پر دی جس میں بے ضابطگی تسلیم کیا گیا ہے۔

سندھ کے ایک اہم کمیشن کے سربراہ اور سیکریٹری پر بھی لاکھوں روپے لے کر ملازمتوں کے لیے پاس کرنے کا مبینہ الزام ہے جس کے سربراہ کئی کروڑ روپے لے کر کسی وجہ سے ایک بااثر خاتون کی سفارش پر متعدد ملازمتیں دے کر کچھ کے وعدے پورے نہیں کر سکے تھے اور حج پر چلے گئے تھے جن سے مذکورہ خاتون کام نہ ہونے پر رشوت کی رقم واپس مانگ رہی ہیں جو انھیں واپس کرنی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سرکاری کاغذات میں سڑکیں بن جاتی ہیں، بھل صفائی ہو جاتی ہے، کچی سڑک پر مٹی مبینہ طور ڈل جاتی ہے اور کراچی کے نالوں کی صفائی کرا دی جاتی ہے اور بلوں کی ادائیگی کر دی جاتی ہے مگر سڑک کا وجود ہوتا ہے نہ بھل صفائی (نہروں) اور نالوں کی صفائی وقت سے قبل مکمل ہوتی ہے جب کہ کچی سڑکوں کی مرمت اور کچے راستوں پر مٹی ڈلوانے پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں جو پکڑے جانے پر کرپشن نہیں بلکہ غلطی یا بے ضابطگی قرار پاتی ہے۔

چار عشروں قبل بلوچستان کے ایک ایم پی اے نے راقم کو ایک تباہ حال سڑک دکھائی تھی جس کی تعمیر اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے دکھائی تھی جہاں سڑک تعمیر ہی نہیں ہوئی تھی مگر بل کی ادائیگی کر دی گئی تھی۔ وفاقی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ رشوت بڑھنے سے جائیدادیں بھی بہت مہنگی ہو گئی ہیں اور رشوت عروج پر پہنچ چکی ہے جس کے خاتمے کے متعدد سرکاری محکمے موجود ہیں۔ رشوت اور سرکاری بے ضابطگیوں نے ملک بھر میں سرطان کی شکل اختیار کر رکھی ہے جسے نیب اور اینٹی کرپشن کے ملک بھر میں موجود ادارے ختم کرانے کی بجائے بڑھانے کے ادارے بن چکے ہیں اور حکومت ہے کہ ہر سال مختلف اداروں میں کی جانے والی بے ضابطگیوں پر آڈٹ میں ہونے والی نشان دہی پر بھی توجہ نہیں دے رہی جس کی وجہ سیاسی دباؤ بھی ہے اور سرکاری مجبوری بھی جس سے یہ سرطان مسلسل پھیل رہا ہے۔