گھوٹکی:
گھوٹکی اور اس کے گرد و نواح میں اچانک آنے والے شدید مٹی کے طوفان اور تیز آندھی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔
طوفان کی شدت نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے اور کئی علاقوں میں بجلی، مواصلات اور ٹریفک کا نظام متاثر ہو کر رہ گیا۔
علاقے میں چلنے والی تیز آندھی اور گردوغبار کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی جس سے سڑکوں پر سفر خطرناک بن گیا اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
متعدد مقامات پر کچے مکانات کی چھتیں اڑ گئیں جبکہ شہریوں کے گھروں پر نصب سولر پینل بھی شدید ہواؤں کی زد میں آ کر تباہ ہو گئے۔
اسسٹنٹ کمشنر گھوٹکی کے مطابق آندھی کے دوران درخت، دیواریں اور سولر پلیٹیں گرنے کے مختلف واقعات میں تحصیل اسپتال اوباڑو میں 50 زخمیوں کو منتقل کیا گیا جہاں ایک بچی دم توڑ گئی۔
دوسری جانب ڈہرکی اسپتال میں بھی 5 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
طوفان کے باعث کئی مقامات پر پرانے اور بڑے درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے جبکہ بجلی کے متعدد کھمبے گرنے سے وسیع علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔
مواصلاتی نظام میں بھی خلل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ادھر سندھ اور پنجاب کے چند دیگر شہروں میں بھی مٹی کے طوفان اور تیز ہواؤں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، محفوظ مقامات پر رہنے اور خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ اسپتالوں اور امدادی اداروں کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے۔