جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی و دیگر کی جانب سے ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
درخواست جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد فاروق، چیئرمین یوسی 2 عرفان اللہ والا اور ممبر سٹی کونسل تیمور احمد نے دائر کی ہے۔ عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ہل پارک شہر کا آخری بڑا سبزہ زار اور تفریحی مقام ہے۔
ہل پارک کو سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ کے ایم سی کے لینڈ ڈپارٹمنٹ نے اپریل 2026 میں دو این او سیز جاری کیے۔ این او سیز کے ذریعے ہل پارک میں پلاٹ پر تعمیراتی کام کی اجازت دی گئی۔ پارک کے ہی ایک اور حصے پر نجی ادارے کی جانب سے اسپورٹس ارینا چلایا جارہا ہے۔ عوامی پارکس اور کھلے مقامات عوامی امانت ہیں۔ عوامی مقامات کو نجی یا تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت سے استدعا ہے کہ کے ایم سی کے محکمہ لینڈ کے جاری این او سیز منسوخ کئے جائیں۔ ہل پارک میں غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن پر پابندی عائد کی جائے۔ تعمیر شدہ ڈھانچوں کو مسمار کرکے زمین کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ درخواست میں سیکریٹری بلدیات، میئر کراچی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی محمد فاروق نے کہا کہ ایک نئے انداز کی چائنا کٹنگ اس شہر میں ہورہی ہے۔ مئیر کراچی اس شہر کے پارک کی زمینوں پر قبضہ کررہے ہیں۔ ہل پارک کی زمین پرائیویٹ لوگوں کو کیوں دی جارہی ہے۔ 500 گز کے پلاٹ کاٹ کر لوگوں کو دیئے جارہے ہیں۔
محمد فاروق نے کہا کہ ایم کیو ایم بہادر آباد کا دفتر بھی غیر قانونی طور پر بنایا گیا ہے۔ پارک جہاں فیملیز آتی ہیں وہاں قبضہ کیا جارہا ہے۔ کراچی کی عوام کو تحفہ دیا جارہا ہے۔ عدلیہ کے پاس آج اس لئیے آئیں ہیں۔ ایم کیو ایم خود اس شہر میں چائنا کٹنگ کی موجد ہے۔ بیچ ویو پارک کی زمین پر بھی قبضہ کیا جارہا ہے۔ ہم اس حوالے سے تمام اداروں کے پاس جائیں گے۔ یہاں کے پارکس کی ایک ایک انچ کی جگہ کے لئیے لڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت کراچی کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کراچی کے لوگوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔ تعلیمی اداروں میں بھی کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ ہماری صوبائی حکومت بھی اس میں ہر طرح سے شامل ہے۔
کراچی کے عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ہمیں ووٹ دیا تھا اس پر پورا اتریں گے۔ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کام پورے سال کچرا اٹھانا ہے جس میں وہ ناکام رہے ہیں۔ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کی زمہ داری ٹاؤن کی ہے۔ 2010 میں سپریم کورٹ میں نعمت اللہ ایڈوکیٹ نے انکروچمنٹ کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔ اس درخواست کے لئیے نعمت اللہ ایڈوکیٹ اسلام آباد تک جایا کرتے تھے۔