نشتر روڈ جائیداد کیس: سندھ ہائیکورٹ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کا 2001 کا حکم منسوخ کر دیا

کسی بھی متاثرہ شخص کے حقوق متاثر ہونے کی صورت میں اسے سنے بغیر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، عدالت کے ریمارکس


کورٹ رپورٹر June 02, 2026

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ نے نشتر روڈ پر واقع جائیداد کو متروکہ وقف املاک قرار دینے کے خلاف درخواست پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کا 2001 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

ہائیکورٹ میں نشتر روڈ پر واقع جائیداد کو متروکہ وقف املاک قرار دینے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف دیا کہ نشتر روڈ پر پراپرٹی 1959 میں خریدی گئی، جائیداد کے مالک کی وفات کے بعد جائیداد ورثا کو منتقل ہوئی۔ ورثا کے پاس لیٹر آف ایڈمنسٹریشن موجود ہے، تاہم زمین کے انتقال سے انکار کیا گیا۔

درخواست گزار نے بتایا کہ متعلقہ حکام کے مطابق جائیداد کو متروکہ وقف املاک قرار دیا جا چکا ہے۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ نے متاثرہ فریق کو سنے بغیر احکامات جاری کیے۔

سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ 2001 کے احکامات کو 22 برس بعد چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کو جائیداد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن کسی بھی متاثرہ شخص کے حقوق متاثر ہونے کی صورت میں اسے سنے بغیر فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ متروکہ وقف املاک ایکٹ کے تحت جائیدادوں کے تعین کے لیے یکم جنوری 1957 کی تاریخ تھی۔

درخواستگزار کی پراپرٹی سے متعلق فیصلہ 2001 میں کیا گیا۔

عدالت نے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کا 2001 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر جائیداد کو متروکہ وقف پراپرٹی قرار دینا قانون کے منافی ہے۔