شیخ آفتاب کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا معاملہ زیر بحث آیا۔
ممبر کمیٹی سید وسیم نے پاور ڈویژن حکام سے استفسار کیا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا شیڈول کون بناکر دیتا ہے؟، کیا لوڈ شیڈنگ نیپرا کے 2023 کے آرڈر کے تحت ہو رہی ہے یا اس کے خلاف کی جارہی ہے۔
سید وسیم نے کہا کہ کہیں 70 فیصد سے زائد نقصانات والے فیڈر پر 8 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی اور کہیں 40 فیصد نقصانات والے علاقوں میں 16 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
شہریار خان مہر نے کہا کہ پچھلے سال سے بجلی پر ایک نئی چیز آئی ہے ڈیٹیکشن چارجز، کیا کہیں پر ڈیٹیکشن چارجز کے حوالے سے قوائد موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں انڈسٹری ہے وہاں دن بھر انہیں بجلی دی جاتی ہے، انڈسٹری والوں کے کہنے پر ان علاقوں میں رات کو لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، بجلی کے پول گر جائیں تو کئی ماہ تک مرمت ہی نہیں ہوتے، لوگ درختوں کو کاٹ کر بڑے ڈنڈوں پر تاریں لگانے پر مجبور ہیں۔
پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ ڈیٹیکشن چارجز پر کوئی قوائد موجود نہیں، کنزیومر سروس مینیوئل کے تحت ڈیٹیکشن چارجز کا ایک طریقہ کار ہے، ڈیٹیکشن چارجز وصول کرنے کی پریکٹس اچھی نہیں ہے۔
حکام نے بتایا کہ کہیں کہیں فیڈر پر 95 فیصد کے بھی نقصانات ہیں، لوگ بل نہیں دیتے، ہمارے پاس فیڈرز کی فہرست موجود ہے کمیٹی کو پیش کر سکتے ہیں۔ کمیٹی رکن سید وسیم نے کہا کہ نیپرا قوائد میں رولز کے خلاف لوڈ شیڈنگ پر سزائیں بھی شامل ہیں۔ کمیٹی رکن بابر نواز نے بتایا کہ گزشتہ دنوں طوفان آیا اور انکے حلقے میں 88 ٹرانسفارمر جل گئے۔
پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ ہم فیڈرز کے حوالے سے مکمل آٹو میشن کی طرف جا رہے ہیں، اجلاس میں سیپکو اور ہیزکو میں لوڈ شیڈنگ، ٹرانسفامرز اور دیگر مسائل پر ذیلی کمیٹی قائم کردی گئی۔
دریں اثنا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کا اجلاس چیئر پرسن مہتاب اکبر راشدی کی زیر صدرات منعقد ہوا جس میں ایچ ای سی اور دیگر اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزرات تعلیم کی جانب سے اسکول نہ جانے والے بچوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ مارچ میں نو چائڈ لیفٹ behind مہم کا آغاز کیا گیا، بہت سے بچے شہر میں تاحال موجود ہیں جو رسمی اور غیر رسمی تعلیم حاصل نہیں کر رہے، اس سلسلے میں ڈور ٹو ڈور سروے کا آغاز کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ اب تک 31 یونین کونسلز کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے، 5 سے 16 سال عمر کے بچوں کو اس مہم میں ٹارگٹ کیا گیا تھا، 22 ہزار 922 بچے کی اب تک نشاندہی کر لی گئی ہے، اس معاملے کی نگرانی کے لیے مائنرنگ کنٹرول روم بھی بنایا گیا۔
حکام نے بتایا کہ اس بار ہم نے نان فارمل ایجوکیشن کے لیے کئی اداروں کو شامل کیا ہے، 11 سو سے زائد نان فارمل سکولز اس وقت کام کر رہے ہیں۔ پہلی بار نان فارمل اسکولز میں پانچویں کلاس کا بورڈ کا امتحان لیا گیا ہے، اس میں 60 فی صد بچوں نے امتحان کو پاس کیا۔
ممبر کمیٹی عقیل انجم نے کہا کہ میں بھی نان فارمل اسکولز کے سسٹم کو دیکھنا چاہتا ہوں کہ میرے حلقے میں کتنا کام ہو رہا ہے جس پر وزارت تعلیم کے حکام نے کہا کہ آپ جب چاہیں ہم آپ کو وزٹ کروا دیں گے۔