ہائیکورٹس کے اختیارات کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ جاری

ضلعی عدالتیں یا دیگر ایسی عدالتیں جو آرٹیکل 203 کے تحت قائم ہوئیں ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں، وفاقی آئینی عدالت


ویب ڈیسک June 03, 2026
فوٹو: فائل

وفاقی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے کیس جلد نمٹانے کے لیے دائر کی گئی درخواست پر اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تمام ہائی کورٹس خودمختار ہیں، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق نے وفاقی آئینی عدالت سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو کیس جلد نمٹانے کی ہدایت کے لیے درائر کی گئی درخواست پر اہم فیصلہ جاری کیا، وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی بنام ماسٹرز ٹائلز کیس میں جاری کیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نہ تو سپریم کورٹ کے ماتحت ہے اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ اکثر اعلیٰ عدلیہ سے ہائی کورٹ کو جلد فیصلوں کی ہدایات کرنے کی درخواست کی جاتی ہے، ملک میں اس وقت 5 خودمختار ہائی کورٹس ہیں، ہر ہائی کورٹ آزاد آئینی عدالت ہے، ہائی کورٹ نہ سپریم کورٹ کے ماتحت ہے اور نہ ہی وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ضلعی عدالتیں یا دیگر ایسی عدالتیں جو آرٹیکل 203 کے تحت قائم ہوئیں ہائی کورٹ کے ماتحت ہیں، ہائی کورٹ کے تمام فیصلے سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیے جاسکتے ہیں، ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنا عدالت کو کسی بھی طرح ماتحت نہیں بناتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹس کو ہدایات جاری کرنے کے احکامات بہت احتیاط اور مناسب الفاظ میں دیے جانے چاہئیں، ہائی کورٹس کے پاس مقدمات کی مقرر کردہ تاریخوں (فکسیشن) کی پالیسی کے ساتھ ساتھ اپنے آزاد روسٹر اور کیس مینجمنٹ کے نظام موجود ہوتے ہیں لہٰذا کوئی بھی حکم یا ہدایت جو ایسی پالیسی یا کیس فکسیشن پر حاوی ہو، ہائی کورٹس کی عدالتی اور انتظامی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے فیصلے میں لکھا کہ بلا شبہ بعض اوقات مقدمے کی ہنگامی نوعیت کا تقاضا ہوتا ہے کہ معاملہ واپس بھیجے جانے پر متعلقہ ہائی کورٹ کی جانب سے جلد سنا جائے، ایسے مقدمات میں مناسب الفاظ کا استعمال ہونا چاہیے تاکہ ہائی کورٹ کی آزادی متاثر نہ ہو۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کو ہدایات جاری کرنے کے لیے کی گئی درخواست پر فیصلے میں بتایا گیا کہ عام طور پر جاری کردہ ہدایات عدالت کے بجائے انتظامی نوعیت کی ہوتی ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا جاتا ہے کہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تصور کی جائے گی اور توقع کی جاتی ہے کہ کیس کی فوری نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔