بھارت کی مودی سرکار نے غیر معمولی اور متنازع اقدام اُٹھاتے ہوئے اپنی ملکی تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب میں ایک غیر مسلم سفارت کار کو اپنا سفیر مقرر کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان مین کہا گیا ہے کہ قطر میں تعینات بھارتی سفیر اور 1998 بیچ کے انڈین فارن سروس کے تجربہ کار افسر وپول جلد ہی ریاض میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اس اعلان سے نہ صرف مودی سرکار کا چہرہ بے نقاب ہوگا بلکہ بھارت کی مذہبی رواداری کی اُس روایت کا بھی خاتمہ ہوگیا جسے وہ اپنے سیکولر ازم اور سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے نام نہاد دعوے کے لیے استعمال کیا کرتا تھا۔
اپنے قیام سے اب تک مذہبی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت نے حج آپریشنز اور مذہبی اہمیت کے باعث سعودی عرب کے لیے صرف مسلم سفارت کاروں کو ہی بطور سفیر تعینات کیا ہے۔
مودی سرکار نے اب جس پہلے غیرمسلم کو سعودی عرب کے لیے سفیر تعینات کیا ہے ان کا نام وپول ہے اور وہ آئی آئی ٹی دہلی سے مکینیکل انجینئرنگ اور انڈین اسکول آف بزنس سے ایم بی اے کی ڈگری ہولڈر ہیں۔
وپول اگست 2023 سے قطر میں بھارت کے سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ قاہرہ، کولمبو اور جنیوا میں بھی تعینات رہ چکے ہیں۔
اس سے قبل 2017 سے 2020 تک دبئی میں بھارت کے قونصل جنرل رہے اور پھر 2020 سے 2023 تک نئی دہلی میں جوائنٹ سکریٹری خلیج کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
غیر مسلم سفیر کی تعیناتی کی وجہ
یہ تبدیلی بھارت اور سعودی عرب کے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاس ہے۔ دونوں ممالک کے روابط اب صرف حج اور تیل تک محدود نہیں رہے بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی جیسے وسیع شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔