وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی حکومت اور عوام کو یوم آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں بہترین تعلقات قائم ہیں اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ثالث کے طور پر پاکستان پر اعتماد کرنے پر دونوں ممالک کے شکرگزار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کے 250 یوم ازادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، صحت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں بہترین تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک کی 8 دہائیوں پر محیط شراکت داری باہمی اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر استوار ہے۔
امریکی سفارتخانے میں منعقعدہ تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی انتظامیہ اور عوام کو امریکا کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ پر مبارک باد دی اور کہا کہ امریکا کی تاریخ امید، عزم اور روشن مستقبل کی ایک منفرد داستان ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکا امن، ترقی اور خوش حالی کے سفر پر گامزن ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد امریکا ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا، امریکا نے پاکستان میں سبز انقلاب کے فروغ، تربیلا ڈیم، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تعلیمی شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، جسے پاکستان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہزاروں پاکستانیوں نے امریکی جامعات سے تعلیم حاصل کی اور آج وہ مختلف شعبوں میں ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں، پاکستان اور امریکا کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ 10 لاکھ پاکستانی نژاد امریکیوں کی صورت میں موجود ہے اور 80 بڑی امریکی کمپنیاں پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی بڑی فری لانس افرادی قوت رکھنے والے ممالک میں شامل ہے اور امریکا کے ممتاز اسپتالوں میں بھی پاکستانی نژاد ڈاکٹر نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور امریکا نے تاریخ کے اہم مواقع پر مل کر کام کیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے ان کی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور انہیں ’’امن کے داعی‘‘ کے طور پر یاد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ایک مخلص ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور اس اعتماد کے اظہار پر دونوں ممالک کا شکر گزار ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹالی بیکر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فعال سفارت کاری نے دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔