دنیا میں نوجوان طبقہ جن کی عمریں پندرہ سے تیس یا پینتیس برس ہیں وہ اپنے اپنے ملکوں کے حکومتی اور گورننس کے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں یا ان میں ان نظاموں کے خلاف سخت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ جین زی کی دنیا ہے جس کا سب سے بڑا سیاسی ہتھیار آج کا ڈیجیٹل میڈیا ہے جہاں وہ نظاموں کے خلاف اپنی آوازیں بھی اٹھا رہے ہیں۔
نوجوانوں کی جانب سے یہ کوئی نظریاتی یا فکری جنگ نہیں بلکہ ان کے سامنے اصل چیلنج گورننس سے جڑے ان کے اہم بنیادی حقوق کے مسائل ہیں جن پر حکمرانی کا نظام کوئی توجہ نہیں دے رہا۔آپ پاکستان بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک کا تجزیہ کریں تو ان میں نوجوان طبقہ جن میں لڑکے اور لڑکیاں یا خواندہ یا ناخواندہ ، شہری یا دیہی افراد حکمرانی کے نظام کی ترجیحات میں بہت پیچھے کھڑے نظر آتے ہیں ۔
حال ہی میں امریکا میں مقیم ایک بھارتی نوجوان کی جانب سے ڈیجیٹل مہم دیکھنے کو مل رہی ہے جس میں یہ نوجوان بھارت کے چیف جسٹس کی جانب سے کاکروچ یعنی لال بیگ کہنے پر سخت احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ہم بھارت کی طاقت ور اشرافیہ یا حکمران طبقات کے لیے کاکروچ نہیں بلکہ بھارتی شہری ہیں اور بھارت کا آئین ہمیں بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے جسے ہم عمرانی معاہدہ کہتے ہیں ۔
بھارت کے اس نوجوان کو خود اندازہ نہیں تھا کہ اس کی ڈیجیٹل مہم کو اتنی بڑی بھارتی یا عالمی سطح پر پزیرائی ملے گی ۔اس وقت تک اس مہم کے ڈیجیٹل فالورز کی تعداد پانچ کروڑ پہنچ گئی ہے جو بھارت کی دو بڑی جماعتوں کانگریس اور بی جے پی کے فالورز سے عملاً زیادہ ہے ۔ یہ نوجوان عملی طور پر جہاں بھارت کے چیف جسٹس کے جملوں پر تنقید کر رہے ہیں وہیں وہ بھارت کے سیاسی اور معاشی نظام کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کے مسائل میں بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ،محرومی کی سیاست،مہنگائی ، سیاسی آزادیاں، بڑھتی ہوئی انتہا پسندی ،میرٹ کا قتل، منصفانہ دولت کی تقسیم ،معاشی ناہمواریاں، کمزور طبقات کے بڑھتے ہوئے مسائل اہم ہیں۔
ان نوجوانوں کو گلہ ہے کہ بھارت کا ریاستی و حکومتی نظام ان کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرنے کی بجائے ان کو کاکروچ،بے روزگار نوجوان،ڈیجیٹل یا نفرت پھیلانے والے دہشت گرد،مستقبل سے لاعلم، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جیسے القابات سے نوازتا ہے۔ بھارت کے حالیہ ریاستی انتخاب میں تامل ناڈو کے انتخاب میں اداکار جوزف وجے کی بی جی پی کے خلاف جین زی کی حمایت سے جیت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یہ مسئلہ محض بھارت تک محدود نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بنگلہ دیش، پاکستان ،سری لنکا میں بھی جین زی کی سطح پر نوجوانوں کا یہ طبقہ حکومتی پالیسی یا قانون سازی سے خوش نہیں ہے۔ان میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ طبقاتی بنیادوں پر قائم نظام طاقت ور طبقات کے ساتھ کھڑا ہے اور اس نظام میں نوجوان اور کمزور طبقات کا کوئی خاص حصہ نہیں ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی جو تبدیلی پچھلے برس ہم نے دیکھی ہے اس میں بھی نوجوانوں کی تحریک کا پہلو نمایاں طور پر دیکھنے کو ملا ہے۔جنوبی ایشیا کا یہ حکمرانی کا نظام عوام کے اندر ایک بڑی خلیج پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔
پاکستان،بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک اس پہلو کو نظرانداز کر رہے ہیںکہ آج کی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہی نوجوانوں کی طاقت ہے۔انھی نوجوانوں کے گرد ہی سیاست، سماجیات اور معیشت کا دائرہ کار چل رہا ہے۔اگر آپ اس طبقہ کو نظرانداز کرکے یا ان کو عملاً دیوار سے لگاکر یا ان کو ڈیجیٹل دنیا کے آوارہ دہشت گرد یا ریاست اور حکومت کے دشمن کے طور پر ان کے بنیادی حقوق غصب کرنے اور ان کی سوچ کی آزادی پر پہرے بٹھانے کی کوشش کریں گے تو اس سے اس نئی نسل میں سوائے غصہ کے کچھ پیدا نہیں ہوگا۔
یہ عجیب مخمصہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی حکمرانی کا نظام طاقت ور طبقات کے مفادات کی بنیاد پر چل رہا ہے تو اس کے نتیجے میں سوائے محرومی کے اور کچھ نہیں سامنے آسکے گا۔یہ نئی نسل ماضی کی نسل سے مختلف ہے اور اس کی ڈیجیٹل رسائی، معلومات اور مشاہدہ ماضی کی نسل کے مقابلے سے کافی مختلف ہے ۔یہ جو ہم نئی نسل کو نمود و نمائش یا مصنوعی دکھاوے یا اعداد وشمار کو بنیاد بنا کر نئی نسل کو ترقی کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں وہ بھی نئی نسل کو اپنی طرف متوجہ نہیں کررہی۔ اصل میں جب ترقی کا بیانیہ متوازن نہیں ہوگا اور سب کو یکساں ترقی کے مواقع نہیں مل رہے ہونگے تو لوگوں کو حکومت کے نظام کے ساتھ جوڑنا ممکن نہیں ہوگا۔
اس طرز کے نظام سے نئی نسل میں لاتعلقی پیدا ہوتی ہے اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ نظام ہم پر سوائے سیاسی اور معاشی بوجھ کے اور کچھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو لوگ کیونکر اس نظام کے ساتھ خود کو جوڑیں گے اور کیوں سمجھیں گے یہ نظام ان کا اپنا نظام ہے۔بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی عملی سیاست کا فریم ورک عام لوگوں سے جڑا ہوا نہیں ہے اس لیے جب لوگ بھارت سمیت دیگر ملکوں میں اپنے غصہ کا اظہارمختلف حوالوں سے یا سیاسی منفی ردعمل کی بنیاد پر کرتے ہیں تو ہمیں غصہ ہونے کی بجائے اپنی ہی داخلی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ ہم سے خود کیا غلطیاں ہو رہی ہیں۔
ایک طرف ہم پرانی روائتی سیاست، معیشت اور ادارہ جاتی فرسودہ ماڈل سے باہر نہیں نکلتے یا اس وقت جو دنیا میں جدید ماڈل ہیں ان کی بنیاد پر اپنی حکمرانی کے نظام کی اصلاح نہیں کرتے تو حالات کیسے بہتری کی جانب جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسے لگتا ہے کہ ہم جنوبی ایشیا کے ممالک اپنی داخلی غلطیوں سے کوئی سبق سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور بضد ہیں کہ اول ہم نے روائتی طرز کی بنیاد پر اپنے حکمرانی کے نظام کو چلانا ہے اور دوئم اس نظام کو نئی نسل سمیت جو بھی اپنی اپنی ریاستوں میں چیلنج یا مزاحمت کرے گا تو اس سے سیاسی طور پر ہم نہیں نمٹیں گے بلکہ ان کا مقابلہ طاقت کے انداز میں کیاجائے گا۔
یہ جو جنوبی ایشیا میں روائتی اور خاندانی حکمرانی سمیت جمہوریت کا نظام چلایا جا رہا ہے وہ آج کی پڑھی لکھی نئی نسل کو قبول نہیں۔اس نئی نسل کے پاس جہاں تعلیم ہے وہیں ان کے پاس اپنی آوازیں اٹھانے کے لیے متبادل آپشن پیدا ہورہے ہیں اور روائتی ابلاغ کے معاملات پیچھے کی طرف جارہے ہیں۔ نئی نسل کے پاس اپنی آوازیں بلند کرنے کی سوچ موجود ہے اور وہ یہ کام کررہے ہیں ۔
اگرچہ ابھی یہ آوازیں جنوبی ایشیا میں سیاسی محاذ پر کسی بڑی تحریک کا حصہ نہیں بن سکی ہیں مگر اس پہلو کو نظرانداز نہ کرنا ہی دانش مندی ہوگی کہ یہ نئی نسل پرانی نسل کی حکمرانی کے بت پاش پاش کردے گی اور پرانی نسل کا سیاسی بیانیہ اپنی اہمیت کھودے گا۔کیونکہ اگر ہم جنوبی ایشیا کی سیاست میں نئی نسل کی سطح پر ابتدا میں ردعمل اور ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوکر دیکھ رہے ہیں تو یہ عمل مزید آگے سیاسی منظر پر غالب ہوسکتا ہے ۔ بنگلہ دیش میں سیاسی نظام کی تبدیلی اور تامل ناڈو کے انتخابات میں ووٹ کی بنیاد پر تبدیلی کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ آگے بھی بہت کچھ تبدیل ہوسکتا ہے۔اگرہم ماضی کے سیاسی دریچوں یا خیالات سے باہر نہیں نکلتے تو پھر ہماری سیاسی نظام پر گرفت اور زیادہ کمزور ہوگی اور ہمیں انتخابی سیاست میں لاتعلقی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بھارت میں بننے والی ڈیجیٹل میڈیا پر کاکروچ جنتا پارٹی جنوبی ایشیا کی سیاست سے جڑے حکمران کو واضح پیغام ہے کہ ان کا یہ پہلے سے جاری سیاسی کھیل زیادہ نہیں چل سکے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا نے جہاں بہت سی خرابیاں پیدا کی ہیں وہیں اس نے مجموعی طور پر اس وقت جنوبی ایشیا کے حکمرانی کے نظام کو نئی نسل میں برے طریقے سے بے نقاب بھی کردیا ہے ۔اس لیے لفظوں اور جذباتیت پر مبنی نعرے نئی نسل کو متاثر نہیں کررہے بلکہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حقوق کو پامال کرکے یہ نظام طاقت ور طبقات کی ترجمانی کررہا ہے۔اس لیے اب بھی موقع ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک جنگوں اور تنازعات کو پیدا کرنے یا اس میں الجھنے یا اس پر وسائل لگانے کی بجائے انسانی ترقی پر بڑی سرمایہ کاری کریں تاکہ نئی نسل کے مسائل بھی حل ہوںاور ان کا اپنی ریاستوں پر اعتماد بھی بحال ہوسکے۔