لندن: برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ برطانیہ میں سیاسی اور سماجی تقسیم کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایلون مسک کی جانب سے برطانوی سیاست اور عوامی مباحث میں مداخلت کے متعدد اشارے سامنے آئے ہیں، جس پر حکومت کو تشویش ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایلون مسک کچھ عرصے سے برطانیہ کے داخلی معاملات پر تبصرے اور بیانات دے رہے ہیں، جو ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے خاص طور پر ہینری نوواک کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس واقعات کو قومی اتحاد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ معاشرے میں مزید اختلافات اور تقسیم پیدا کرنے کے لیے۔
وزیراعظم نے مقتول ہینری نوواک کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور ان سے اظہارِ تعزیت کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہینری نوواک کی یاد کو ایک مثبت اور دیرپا میراث میں تبدیل کیا جانا چاہیے تاکہ اس افسوسناک واقعے سے معاشرے میں بہتری اور یکجہتی کو فروغ مل سکے۔
دوسری جانب برطانوی وزیراعظم نے اس رکن پارلیمنٹ کی بھی حمایت کی جو ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایلون مسک کے سیاسی بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف ممالک میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہیں، جبکہ برطانیہ میں بھی ان کے کردار اور اثر و رسوخ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔