اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے ڈائریکٹر رفال گروسی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا جوہری فریم ورک پر اتفاق کے قریب پہنچ چکے ہیںجو انھیں مختلف مسائل کا جائزہ لینے کے لیے وقت فراہم کرے۔
ویانا میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے ہنگامی اجلاس کے بعد ان کا کہناتھاکہ ادارہ دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم وہ براہِ راست مذاکرات میں شامل نہیں۔ قبل ازیں ویانا میں تعینات ایران، چین اور روس کے مستقل نمائندوں نے رفال گراسی سے مشترکہ ملاقات کی۔
ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تھوڑی دیر قبل ادارے نے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ محدود رسائی کے باعث افزودہ یورینیم کے ذخائر کی مکمل تصدیق ممکن نہیں، جس سے جوہری پھیلاؤ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ادھر وائٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات ان کے لئیِ اعزاز ہو گی،وہ پروفیشنل شخص ہیں، ایران وینزویلا نہیں کہ ہم ایک دن میں جائیں اور فتح سمیٹ کر واپس آئیں، معاہدے کے نکات جلد سامنے آجائیں گے ، ہم خلاسے ایرانی جوہری مقامات کی نگرانی کررہے ہیں۔
امریکا نے ایران سے عمان کے نام پر گیس فروخت کرنے پر ایل پی جی کی برآمدات اور مبینہ ’شیڈو بینکنگ‘ نیٹ ورکس پر بھی نئی پابندیاں عائد کر دیں،وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امر یکہ نے عمان پر ایران کیساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کیلئے بھی شدید دبائو بھی ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیج تنازع میں عمان کے غیر جانبدارانہ رویے کو امریکا اب اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگا ہے ۔ دوسری طرف خلیج عمان میں ایرانی بحریہ کی جانب سے انتباہی فائرنگ کے بعد امریکی بحری بیڑے کے ڈسٹرائر جہاز بحرِ ہندچلے گئے،امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے آغاز کے بعد سے اب تک 129 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ، عمان کے مینا الفحل آئل ٹرمینل پر بھی دھماکے ہوئے ۔ ادھرایران سے جنگ کے دوران امریکی طیارہ بردار جہاز پر آگ لگنے سے نقصان کی ویڈیو بھی سامنے آگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آگ سے فوجیوں کے رہائشی بنکرز مکمل تباہ ہوگئے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے میں استعمال ہونے والے امریکی اڈے ہمارے لیے جائز ہدف ہوںگے ،سعودیہ کے ساتھ پائیدار اور تعمیری تعلقات کے فروغ کے لیے پْرعزم ہیں،امریکا،اسرائیل نے اماراتیسرزمین ہمارے خلاف استعمال کی، دستاویزی ثبوتموجود ہیں، بعض فوجی کارروائیوں میںامارات نے خود بھی حصہ لیا،سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ موجودہ مسودے میں ابہام ہیں جن کی وضاحت ضروری ہے۔
مزید برآں امریکی سینیٹ نے پھر ریپبلکن پارٹی کی سیو امریکا ایکٹ منظور کروانے کی کوشش ناکام بنا تے ہوئے ٹرمپ کو جھٹکا دیدیا، سینیٹر لنڈسے گراہم کی پیش کردہ ترمیم 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے مسترد کر دی گئی جس میں 4 ریپبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹ اراکین کا ساتھ دیا۔
دریں اثنااقوامِ متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث لاکھوں مزید افراد بھوک کے خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں،افغانستان، صومالیہ اور سری لنکا کے گھریلو صارفین سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپس میں شامل ہیں۔