بھارتی فوج کے آپریشن بلیو اسٹار کو 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے کو ریاستی دہشتگردی اور اقلیت دشمنی کی بدترین مثال قرار دیا جاتا ہے


ویب ڈیسک June 06, 2026

بھارتی فوج کے آپریشن بلیو اسٹار کو 42 سال مکمل ہو گئے ہیں اور اس آپریشن سے متاثرہ سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔

آپریشن بلیو اسٹار کا آغاز یکم جون 1984 کو گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے حملے سے ہوا تھا، جسے سکھ برادری اپنی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار کرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق آپریشن بلیو اسٹار کے دوران ہزاروں نہتے مرد، خواتین، بزرگ اور بچے بھارتی فوج کی سفاکانہ کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ اس واقعے کو بھارتی ریاستی دہشت گردی اور اقلیت دشمنی کی بدترین مثال قرار دیا جاتا ہے، جبکہ گولڈن ٹیمپل پر حملے کو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی بھی کہا گیا۔

ناقدین کے مطابق جمہوریت کے دعویدار بھارت نے اس کارروائی کے ذریعے اقلیتوں کو خوف کے سائے میں دھکیل دیا۔

آپریشن بلیو اسٹار کے خلاف برطانیہ، کینیڈا، امریکا اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ اس دوران کئی سکھ فوجی افسران اور اہلکاروں نے بھارتی فوج کی کارروائی کے خلاف اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔

سابق بھارتی وزیر اعلیٰ پنجاب پرکاش سنگھ بادل نے آپریشن بلیو اسٹار کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی فوج نااہل ہے۔ سکھ مورخ ہرجندر سنگھ دلگیر کے مطابق سکھوں کے خلاف آپریشن بلیو اسٹار ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سکھوں کے حقوق کی خلاف ورزی تھی اور اس کے ذریعے سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا۔

معروف صحافی شیگھر گپتا نے نے بھی آپریشن بلیو اسٹار کو بھارتی فوج کی ناقص منصوبہ بندی اور سب سے بڑی نااہلی قرار دیا تھا۔ 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود اس کارروائی سے متاثر ہونے والی سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔