مسلمان طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک، امریکا کی معروف مسلم تنظیم نے اسکولوں کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا

درخواست کے مطابق ایک طالب علم کو فلسطین کے نقشے والی سویٹ شرٹ پہننے سے بھی روک دیا گیا


ویب ڈیسک June 07, 2026

واشنگٹن: امریکا کی معروف مسلم شہری حقوق تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے ورجینیا کے ایک بڑے سرکاری اسکول سسٹم کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ چار مسلم طلبہ کو ان کے مذہبی اور نسلی پس منظر کی بنیاد پر غیرقانونی طور پر سزا دی گئی۔

مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ورجینیا کے فیئر فیکس کاؤنٹی پبلک اسکولز (FCPS) نے امریکا کے معروف تعلیمی ادارے تھامس جیفرسن ہائی اسکول فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم مسلم طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق معاملہ اکتوبر 2025 میں مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (MSA) کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو سے شروع ہوا۔ یہ ویڈیو ایک مقبول آن لائن ٹرینڈ کا حصہ تھی جسے مختلف طلبہ تنظیمیں اپنے پروگراموں کی تشہیر اور نئے اراکین کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔

ویڈیو میں طلبہ اپنے ساتھیوں سے ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ انکار کی صورت میں دیگر طلبہ مزاحیہ انداز میں انہیں اٹھا کر لے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ مقدمے کے مطابق ویڈیو میں نہ کوئی دھمکی تھی، نہ اسلحہ اور نہ ہی کسی حقیقی تنازع کا حوالہ دیا گیا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ دیگر طلبہ تنظیموں نے بھی اسی نوعیت کی ویڈیوز بنائیں جن میں فرضی تشدد اور اسلحے کے مناظر شامل تھے، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

تنظیم کے مطابق مسلم طلبہ کے خلاف کارروائی اس وقت کی گئی جب کچھ سوشل میڈیا صارفین اور بیرونی حلقوں نے ویڈیو کو حماس کی حمایت اور 7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ نے انہی الزامات کو بنیاد بنا کر طلبہ کو معطل کیا، ان پر یہود مخالف رویے کا الزام عائد کیا اور ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تادیبی کارروائی درج کر دی۔

درخواست کے مطابق ایک طالب علم کو فلسطین کے نقشے والی سویٹ شرٹ پہننے سے بھی روک دیا گیا۔ طلبہ کی شناخت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے عدالتی ریکارڈ میں ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

تنظیم کی وکیل کیتھرین کیک نے کہا کہ مسلم طلبہ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو دیگر طلبہ تنظیموں سے مختلف ہو، لیکن انہیں الگ نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع متاثر ہوئے۔

مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ معطلی کے باعث طلبہ کو شہرت کو نقصان، آن لائن ہراسانی، دھمکیوں، کالج داخلوں اور انٹرن شپ کے مواقع میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب اسکول حکام پہلے ہی اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ویڈیو میں فرضی اغوا اور تشدد جیسے مناظر دکھائے گئے تھے جو اسکول کے ماحول کے لیے مناسب نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ کے تناظر میں ایسی ویڈیوز بعض طلبہ اور خاص طور پر یہودی کمیونٹی کے لیے تکلیف دہ محسوس ہو سکتی ہیں۔

تنظیم کے وکلاء کا مؤقف ہے کہ اسکول کی کارروائی امریکی آئین میں دی گئی آزادی اظہار، مساوی حقوق اور شہری حقوق کے وفاقی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کا فیصلہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا مسلم طلبہ یہ ثابت کر پاتے ہیں کہ اسی نوعیت کے رویے پر غیر مسلم طلبہ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر عدالت مذہبی یا نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک کے شواہد قبول کر لیتی ہے تو یہ مقدمہ امریکا میں تعلیمی اداروں میں شہری حقوق سے متعلق اہم ترین مقدمات میں شمار ہو سکتا ہے۔

درخواست میں طلبہ کے خلاف تادیبی ریکارڈ ختم کرنے، ہرجانے کی ادائیگی اور آئندہ ایسے اقدامات روکنے کے لیے عدالتی احکامات جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔