خواہ مخواہ واویلا کرنے اورسیاپا مچانے کی تو لوگوں کو عادت سی پڑگئی ہے، کوئی کہتا ہے یہ ہو گیا ہے، دوسرا کہتا ہے وہ ہو گیا ہے، تیسرا بولتا ہے فلاں برا ہے، چوتھا کہتا ہے سارے برے ہیں۔ ورنہ حالات اتنے برے بھی نہیں جتنا بتائے اوردکھائے جاتے ہیں یا جتنا ہم شور مچاتے ہیں۔
ٹھیک ہے مہنگائی ہے ،افراطِ زر ہے، بیروزگاری ہے،غربت بھی ہے اور دہشت گردی بھی جاری وساری ہے لیکن کوئی ہوشیارہو اورسوچ سمجھ کر اقدامات اٹھائے تو ہرقسم کا سروائیول ممکن ہے ۔مثلاً ہمیں لے لیجیے کہ ہم نے حالات کو کس ہوشیاری سے ہینڈل کیا اور کامیاب ہوئے ہیں بلکہ کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کرتے چلے آرہے ، مستقبل میں آنے والے مسائل کی بھی اچھی طرح منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں مچھروں کا مسئلہ تھا کیونکہ کبھی بجلی ہوا کرتی تھی اورپنکھے دنیا بھر کے مچھروں کو کھینچ کھینچ کر مارتے تھے یا کہیں دور بھگا دیتے تھے۔
وہ تو خدا حکومت کا بھلا کرے، سرکاری اداروں کو اورصاحب اولاد کرے، آئی ایم ایف کو اور بھی زیادہ الو سواری نصیب ہو جب کہ بجلی چوری کرنے والوں کی زندگی دراز کرے اور خیبرپختونخوا کے ان سیاست دانوں اور منتخب نمائندوں کو مزید سربلندی عطا کرے جنہوں نے بجلی چوری اور چوری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ یوں بجلی کو صرف ’’جانے ‘‘ کی ڈیوٹی دی گئی اور’’آنے ‘‘ کی تکلیف سے مستثنیٰ کردیا گیا، پھر ہم نے اپنی خداداد ذہانت سے کام لے کر ایک مچھردانی خریدی ،کیونکہ اس کے سوا اور کوئی راستہ ہے نہیں تھا۔ مچھردانی کو سرشام اپنی چارپائی پر تان لیتے تھے اوراس کا ایک کونا اٹھا کر اندر اپنا استعمال شدہ لباس رکھ لیتے تھے لیکن مچھر بھی بڑی ذہین مخلوق ہے۔
وہ ہماری بو کے تعاقب میںرہتے اور جیسے ہی ہم مچھردانی کا کونہ اٹھا کر چارپائی پر لیٹتے، مچھر تیزی سے مچھردانی کے اندر گھس جاتے اورہم پیچھے سے مچھردانی کو اٹھا کرباقی حصہ گرا کر سارے مچھروں کو مچھردانی میں قید کرلیتے تھے اورپھر آرام سے دوسری چارپائی پر لیٹ جاتے ، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کرتے اپنی فکر کی تحسین کرتے اورآئی ایم ایف کو دعائیں دیتے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم زیادہ چالاک ہیں یا مچھر؟ ایسا نسخہ کسی اور کے پاس ہو تو ہمیں بتائے، ہم اسے انعام دیں گے۔
دوسرا مسئلہ ہمارے سامنے یہ آیا کہ جب بسوں وغیرہ نے اپنے کرائے ہوائی جہاز کے برابر کردئیے ، تو شہر جاکر ضرورت کی چیزیں خرید لانا مشکل ہوگیا تو ہم نے بسوں بلکہ ہرقسم کی مشینی سواری کو ترک کردیا ، آپ یقین کریں کہ ان تمام چیزوں کی بچت ہوگئی جوہم شہرسے خریدنے کے لیے جایا کرتے تھے بلکہ ایک اوربہت بڑا فایدہ بھی ہوگیا۔ کچھ چیزیں ایسی تھیں جن کے بغیر گزارہ ممکن نہیں تھا چنانچہ ہفتے میں ایک بار ہم نے پیدل جاناآنا شروع کیا اس طرح بغیر مہنگے جوگر خریدنے اورٹریکنگ سوٹ پہنے کے ہماری ورزش اورجوگنگ بھی ہوجاتی ۔
اللہ کالاکھ لاکھ شکر کرتے حکومتوں کو شاباش بولتے اورآئی ایم ایف کو دعائیں دیتے ۔ خاص طور پر اپنی صوبائی حکومت کو تو ڈھیروں دعائیں بھی دیتے ہیں۔
اپنے بیٹے کو ہم نے پیٹ کاٹ کاٹ کر پڑھایا، ڈگری حاصل کرنے کے بعد جب اسے نوکری دلانے نکلے تو نیلامیوں سے واسطہ پڑ گیا، ہمارے پاس تھا کیا؟ جو کسی نوکری کے لیے بولی دیتے ؟لیکن لڑکا ہوشیار تھا ،کالج اوریونیورسٹی میں اسے کچھ ایسے دوست مل گئے جو پکے نوسرباز بن گئے تھے چنانچہ اس نے بھی ان کو جوائن کرلیا اورگھر میں پیسے کی ریل پیل ہوگئی۔
اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے حکومتوں کوشاباش ہو اورآئی ایم ایف کو ڈھیر دعائیں ۔ دوسرا لڑکا غبی تھا، کسی طرح بھی ہم اسے پڑھا نہیں سکے چنانچہ وہ پڑھنے کی بجائے چائلڈ لیبر بن گیا اب وہ گاڑیوں کا مستری ہے، اپنا گیراج چلاتا ہے، گاڑیوں کے پرزے ادھرادھر کرنے میں اچھا خاصا کماتا ہے ، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے حکومت کی خیر ہو اورآئی ایم ایف کو دعائیں ۔
تیسرے کو میں نے دینی مدرسے میں داخل کیا کہ ہمارے صوبے ’’خیر پے خیر‘‘ میں روایت بن گئی ہے کہ ایک بچے کو ضروردین کے لیے وقف کیا جائے، اس نے بھی سند لینے کے بعد دین کی خدمت شروع کی، پہلے اپنی چند مرلے زمین پر ایک مسجد تعمیر کرنے کا اعلان کیا، گاؤں والوں سے اور ہر راہگیر سے چندہ وصول کر کے مسجد تعمیر کی، پھر اس میں مدرسہ بھی قائم کیا۔خداکالاکھ لاکھ شکر ہے حکومت کو شاباش اورآئی ایم ایف کو ڈھیر ساری دعائیں۔
چوتھا جو سب سے زیادہ کامیاب نکلا حالانکہ اس کی طرف سے مایوس تھا لیکن اس نے ایک سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تو گھر بھی کچے سے پکا ہوگیا، گیراج میں دو گاڑیاں بھی کھڑی ہوگئیں۔خدا کالاکھ لاکھ شکر ہے ، حکومت کو بے تحاشا شاباشیاں اورآئی ایم ایف کو دعائیں ۔
رہ گئے ہم دو بڑھیا اورمیں۔ بڑھیا خوددار بھی ہے اور ہوشیار بھی ، بیٹوں اوربہوؤں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے نہ جانے کس طرح وفاقی اور صوبائی سرکاری امدادی پروگراموں کی رکنیت حاصل کر لی۔ شاید اس لیے کہ اس کا رابطہ ایک خاتون رکن اسمبلی سے ہو گیا تھا، اب وہ بڑے آرام سے سرکاری امداد لیتی ہے ، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی ہے، حکومت کی تحسین کرتی ہے اورآئی ایم ایف کو دعائیں ، کیوں کہ میں باقی تو سب کچھ کرتا ہوں لیکن اس قسم کی چیزوں پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔
رہ گیا میں تو میں کسی سے کم ہوں ، میں ان سب کا باپ اوراس بڑھیا کا شوہر ہوں۔
نکل گیا ، قدم قدم پر خیرخوا مخیر اورخیراتی تنظیمیں ہیں جو چندے کادھندہ کرتی ہیں اوریہ دھندہ کبھی مندہ نہیں ہوا چنانچہ میں نے بھی ایسی کئی تنظیموں میں نام لکھوایا ہوا ہے، ہرمہینے کہیں نہ کہیں سے کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے، وہ لا کر بڑھیا کے سامنے دھرتا ہوں اورپھر ہم دونوں اللہ کالاکھ لاکھ شکر کرتے ہیں، حکومت کی تعریف کرتے ہیں، آئی ایم ایف کو دعائیں دیتے ہیں ، مطلب آدمی ہوشیار ہوتو اس ملک میں مواقع ہی مواقع ہیں ۔