فلسطین کی آزادی کی تحریک انسانی تاریخ کا وہ سلگتا ہوا باب ہے جس نے طویل عرصے تک مظلومیت اور بے بسی کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ ایک وقت وہ تھا جب فلسطینیوں کی آواز کو دبا دیا گیا تھا اور عالمی طاقتیں اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے درپے تھیں۔ یہی کوشش آج بھی کسی نہ کسی صورت میں کبھی صدی کی ڈیل اور کبھی ابراہیمی معاہدوں کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔بہر حال فلسطین پر1948سے قبضے کے بعد سے مسلسل کئی برس تک فلسطین کی آواز کو مسلسل دبانے کی کوشش کی گئی اور اسرائیل کو خطے میں ایک بدمعاش کی حیثیت دی گئی۔
ایسے مایوس کن حالات میں کہ جب ہر طرف فلسطینی مظلوموں کی امیدیں دم توڑ رہی تھیں اور ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام تھا تو دوسری طرف کمیونزم کا نظام تھا جو دنیا کے تمام ممالک کے لیے چیلنج تھا کہ اگر دنیا میں رہنا ہے تو ان کے ساتھ رہنا ہو گا۔اسی زمانے میں تین عرب اسرائیل جنگیں ہو چکی تھیں اور امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر استعماری قوتوں نے اسرائیل کی مدد کی اور عربوں کے لیے مسائل پیدا کیے۔یہ تمام صورتحال دیکھ کر فلسطینی عوام اور ان کی آزادی کی تحریک بھی کمزور پڑ چکی تھی۔
ایسے حالات میں ایران میں امام خمینی ؒ کی قیادت میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے ڈوبتی ہوئی تحریک فلسطین کو نہ صرف ایک مضبوط سہارا دیا، بلکہ اسے ایک نئی جہت، ولولہ اور انقلابی روح بھی عطا کی۔آج جب ہم دنیا کے نقشے پر فلسطین کے حق میں اٹھنے والے عالمی طوفان کو دیکھتے ہیں، تو امام خمینیؒ کے وہ تاریخی جملے اور پیش گوئیاں یاد آتی ہیں جو اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل، مسئلہ فلسطین کو محض ایک علاقائی یا زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع بنا کر پیش کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے یہ تحریک بتدریج کمزور اور عالمی سطح پر تنہا ہو رہی تھی۔ امام خمینی ؒنے اس منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ انھوں نے فلسطین کو صرف مقامی لوگوں کا نہیں، بلکہ پوری امت مسلمہ اور دنیا کے تمام مظلوموں کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔امام خمینیؒ نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کے لیے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کوعالمی یومِ القدس قرار دیا، جس نے اس تحریک کو جغرافیائی حدود سے نکال کر بین الاقوامی بنا دیا۔
امام خمینی نے انقلاب کی کامیابی کے بعد فوری طور پر تہران میں موجود اسرائیل کے سفارتخانہ کو بند کیا اور وہاں فلسطین کا سفارتخانہ قائم کرتے ہوئے فلسطینی پرچم کو بلند کیا۔ یہ اس وقت کی دنیا میں پہلی مرتبہ ہو رہا تھا کہ ڈوبتی ہوئی فلسطینی تحریک آزادی کو نئی زندگی مل رہی تھی۔اسی زمانے میں ہی امام خمینی نے فلسطینی عوام کے اندر یہ شعور بیدار کیا کہ وہ بیرونی بیساکھیوں اور عالمی اداروں کے کھوکھلے وعدوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنی ذاتی طاقت اور ایمانی جذبے پر بھروسہ کریں۔اس نئی جہت کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطین کے نوجوانوں نے ہاتھوں میں پتھر اٹھا کرانتفاضہ کی بنیاد رکھی، جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک ناقابلِ تسخیر مزاحمت میں تبدیل ہو گئی۔آج اسی مزاحمت کو ہم کہیں حماس کی صورت میں اور کہیں جہاد اسلامی کی صورت میں فلسطین کا دفاع کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
امام خمینیؒ کا ایک مشہور اور بصیرت افروز فرمان ہے کہ اگر فلسطینی کھڑے ہو جائیں، تو دنیا ان کی پشت پر کھڑی ہو جائے گی۔یہ جملہ اس دور میں کہا گیا تھا جب فلسطینی عوام خود کو تنہا اور بے یارومددگار محسوس کر رہے تھے، لیکن آج بیداری کی وہ لہر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ امام خمینی کی یہ پیش گوئی جو پچاس سال قبل یاسر عرفات کے ساتھ ملاقات میں بیان کیے گئے الفاظ تھے وہ عین تحقیق پارہی ہے، یعنی آج فلسطینی مزاحمت نے ثابت کیا ہے کہ اگر آپ کھڑے ہوجائیں اور مقابلہ کریں تو پھر دنیا بھرکے لوگ آپ کے ساتھ ہوتے ہیں اور آج پوری دنیا کے عوام اور اقوام فلسطینی عوام کی تحریک آزادی کا حصہ بن چکے ہیں۔
فلسطینی عوام نے غاصب صیہونی حکومت کے مظالم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور بے مثال پائیداری کا مظاہرہ کیا۔ ان کے اس کھڑے ہو جانے کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔آج امام خمینیؒ کی یہ پیش گوئی سو فیصد سچ ثابت ہو رہی ہے کہ اب فلسطین کی حمایت صرف مسلم ممالک تک محدود نہیں رہی، بلکہ امریکا، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے دارالحکومتوں میں لاکھوں کے مجمعے فلسطینی پرچم اٹھا کر صیہونی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
مغربی دنیا کی نامور جامعات (جیسے ہارورڈ، کولمبیا اور آکسفورڈ) کے طلبہ اور پروفیسرز فلسطین کے حق میں کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ نئی نسل اب جھوٹے صیہونی پروپیگنڈے کو مسترد کر چکی ہے۔بین الاقوامی عدالت ِ انصاف (ICJ) اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی فورمز پر غاصب حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا جا چکا ہے اور دنیا بھر کے شعورِ انسانی نے فلسطین کے بیانیے کو تسلیم کر لیا ہے۔
امام خمینیؒ اسرائیل کو ایک سرطانی پھوڑا قرار دیتے تھے جس کا واحد حل مزاحمت اور اتحاد ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر تمام مسلمان متحد ہو کر اپنا حصہ ڈالیں تو باطل کو مٹایا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ قول آج بھی رہنما اصول ہے کہ’’ اگر تمام مسلمان مل کر ایک ایک بالٹی پانی بھی ڈالیں تو اسرائیل بہہ جائے گا۔‘‘آج فلسطین میں جاری حالیہ مزاحمتی تحریکوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صیہونی طاقت کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کی قربانیوں نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب غاصبانہ قبضے کا خاتمہ ہوگا اور فلسطین کے اصل وارث اپنے وطن میں آزادانہ سانس لے سکیں گے۔
امام خمینیؒ نے تحریک فلسطین کے شجر مرجھائے کو اپنے افکار اور اصولی موقف سے جو زندگی بخشی تھی، آج وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ فلسطینیوں کے اندر پیدا ہونے والی نئی جہت اور دنیا بھر میں ان کی بے مثال حمایت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بانی انقلاب کی بصیرت افروز پیش گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم حق کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے، تو باطل کی بڑی سے بڑی دیوار بھی ریت کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے اور آج کا فلسطین اس کی زندہ مثال ہے۔