پنجاب کے ضعل بھکر میں ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا ہونے والے نوجوان کو پولیس نے بحفاظت بازیاب کرا لیا، جبکہ کارروائی کے دوران گینگ کے تین کارندوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق محلہ تیلیاں والا، کلورکوٹ کے رہائشی نوجوان عابد کی فون پر ایک خاتون ملائکہ سے دوستی ہوئی، جس نے اسے ملاقات کے بہانے فتح پور بلایا۔ عابد ملاقات کے شوق میں کلورکوٹ سے فتح پور پہنچ گیا جہاں ملائکہ نے اپنے بھائی عقیل اور سہیلی شکیلہ کے ساتھ مل کر اسے ہنی ٹریپ کا شکار بنا لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے عابد کے اہلخانہ سے رہائی کے عوض 8 لاکھ روپے طلب کیے، جبکہ رقم نہ ملنے پر ملائکہ نے نوجوان پر زنا کا الزام عائد کر دیا۔ بعد ازاں گینگ نے خود ہی 15 پر کال کر کے تھانہ فتح پور، ضلع لیہ کی پولیس کو موقع پر بلا لیا۔
ڈی پی او شہزاد رفیق کے مطابق کلورکوٹ میں نوجوان کی گمشدگی کا مقدمہ پہلے ہی درج تھا۔ دونوں تھانوں کی پولیس نے مشترکہ تفتیش کی تو بہن بھائی پر مشتمل گینگ بے نقاب ہو گیا۔ پولیس نے مغوی کو بازیاب کرا کے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ نوجوان کو بحفاظت اس کے گھر کلورکوٹ پہنچا دیا گیا۔
ڈی پی او نے بتایا کہ عابد کا چائے کا ہوٹل ہے اور وہ گھر والوں کو اطلاع دیے بغیر گیا تھا، جس کے اچانک لاپتا ہونے پر ورثا نے مقدمہ درج کرایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مزید تفتیش جاری ہے اور گروہ کا پنجاب بھر میں موجود ممکنہ ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے۔
ڈی پی او شہزاد رفیق نے نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فون پر ہونے والی دوستیوں اور ایسے جھانسوں سے محتاط رہیں۔