ہم اکثر یہ بات دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ کچھ لوگ دل کھول کر کھاتے ہیں مگر پھر بھی دبلے پتلے رہتے ہیں، جبکہ کچھ افراد معمولی سی اضافی غذا لینے سے بھی وزن بڑھنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اکثر غلط فہمی اور جذباتی ردعمل کو جنم دیتی ہے، مگر سائنس کے مطابق اس کی وجہ صرف کھانے کی مقدار نہیں بلکہ انسانی جسم کا اندرونی نظام ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہر انسان کا جسم خوراک کو مختلف انداز میں استعمال کرتا ہے، اور یہی فرق وزن میں کمی یا اضافے کا بنیادی سبب بنتا ہے۔ اگر اس عمل کو نہ سمجھا جائے تو موٹاپا آگے چل کر دل کی بیماری، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ ماہرین اس حوالے سے جسم کے اندر موجود چند اہم حیاتیاتی عوامل کو بنیادی قرار دیتے ہیں۔
سب سے پہلے روزمرہ کی چھوٹی جسمانی سرگرمیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ گھر میں چلنا پھرنا، سیڑھیاں چڑھنا، بیٹھے بیٹھے جسم کو حرکت دینا یا مسلسل متحرک رہنا وہ عوامل ہیں جو بغیر کسی جم یا ورزش کے بھی کیلوریز جلانے میں مدد دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کچھ افراد فطری طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا وزن کنٹرول میں رہتا ہے، جبکہ زیادہ بیٹھنے والے افراد میں وزن بڑھنے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔
دوسرا اہم عنصر ہارمونز ہیں جو بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساس کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جسم میں موجود بعض ہارمونز دماغ کو یہ سگنل دیتے ہیں کہ کھانا بند کر دیا جائے، جبکہ کچھ ہارمونز بھوک کو بڑھاتے ہیں۔ جب یہ توازن بگڑ جائے تو انسان ضرورت سے زیادہ کھانے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
تیسری وجہ میٹابولزم ہے، جسے جسم کی ’’اندرونی بھٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نظام خوراک کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے، اور ہر انسان میں اس کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ جن افراد میں پٹھے زیادہ اور چربی کم ہوتی ہے، ان کا میٹابولزم زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے، حتیٰ کہ آرام کی حالت میں بھی کیلوریز جلتی رہتی ہیں۔
چوتھا عنصر جینیاتی ساخت یا خاندانی اثرات ہیں، جو والدین سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ کچھ مخصوص جینز بھوک کو بڑھانے اور جسم میں چربی جمع کرنے کے رجحان کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے بعض افراد کے لیے وزن کم کرنا نسبتاً مشکل ہو جاتا ہے، تاہم یہ مکمل طور پر فیصلہ کن نہیں ہوتے۔
پانچواں اہم پہلو معدے میں موجود اربوں بیکٹیریا یا گٹ مائیکرو بایوم ہے، جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ جسم خوراک سے کتنی توانائی اور چربی جذب کرے گا۔ اگر یہ نظام غیر متوازن ہو جائے تو وزن بڑھنے کا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ نیند کی کمی بھی وزن بڑھانے کی بڑی وجہ قرار دی جاتی ہے۔ ناکافی نیند جسم میں ایسے ہارمونز کو متحرک کرتی ہے جو میٹھا اور زیادہ کیلوریز والا کھانا کھانے کی خواہش بڑھا دیتے ہیں، جبکہ تھکن کے باعث جسمانی سرگرمی بھی کم ہو جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وزن صرف خوراک یا ورزش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی نظام کا عکس ہے، جس میں میٹابولزم، ہارمونز، جینیات، نیند اور آنتوں کی صحت سب شامل ہیں۔ اس لیے اگر کسی شخص کا وزن زیادہ ہو تو اسے صرف لاپرواہی سے منسوب کرنا درست نہیں، کیونکہ ہر جسم کا اندرونی نظام مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔