عورت ہونا جرم ہے؟ مادھوری ڈکشٹ کی نئی فلم نے تہلکہ مچا دیا

فلم کے مطابق معاشرہ ایسی ہر عورت کو غیر معمولی اور قابلِ اعتراض سمجھتا ہے جو روایتی سانچے میں فٹ نہ بیٹھے


ویب ڈیسک June 10, 2026

نیٹ فلکس کی نئی فلم ’ماں بہن‘ صرف ایک ڈارک کامیڈی یا سسپنس ڈراما نہیں بلکہ خواتین کے بارے میں معاشرے کے دہرے معیار، اخلاقی نگرانی اور کردار کشی پر ایک تیز و تند طنز بھی ہے۔ 

مادھوری ڈکشٹ اور ترپتی ڈمری کی مرکزی کرداروں پر مشتمل یہ فلم اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر عورت ہونے کا مطلب ہی الزام، تنقید اور شک کی زد میں رہنا ہے۔

فلم کا عنوان خود کئی معنی رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی ایک عام گالی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ جملہ یاد دلاتا ہے جو خواتین کے احترام کی بات کرتے وقت اکثر دہرایا جاتا ہے، یعنی ’گھر میں ماں بہن نہیں ہیں کیا؟‘۔ فلم اسی سوچ کو چیلنج کرتی ہے اور سوال اٹھاتی ہے کہ کیا خواتین کو صرف رشتوں کے تناظر میں ہی دیکھا جائے گا یا انہیں ایک مکمل انسان کی حیثیت بھی دی جائے گی؟

فلم میں مادھوری ڈکشٹ نے ریکھا نامی بیوہ خاتون کا کردار ادا کیا ہے، جسے محلے والے صرف اس لیے ’چڑیل‘ قرار دیتے ہیں کہ وہ شوہر کی وفات کے بعد بھی اپنی شخصیت اور انداز زندگی تبدیل نہیں کرتی۔ بغیر آستین والے کپڑے پہننا، مسکراتے رہنا اور خوداعتماد نظر آنا ہی اسے معاشرے کی نظروں میں مشکوک بنا دیتا ہے، حالانکہ مرد اس پر نازیبا تبصرے بھی کرتے ہیں اور اس کے گھر کی دیواروں پر توہین آمیز الفاظ بھی لکھتے ہیں۔

فلم کے مطابق معاشرہ ایسی ہر عورت کو غیر معمولی اور قابلِ اعتراض سمجھتا ہے جو روایتی سانچے میں فٹ نہ بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ ریکھا کی بیٹیاں سشما اور جیا بھی برسوں تک اپنی ماں کے بارے میں شکوک اور احساسِ شرمندگی کا شکار رہتی ہیں۔

ترپتی ڈمری نے سشما کے کردار میں متاثر کن اداکاری کی ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون ہیں جو گھر کے مردوں کی خدمت کرتے کرتے اپنی شناخت کھو چکی ہے۔ دوسری طرف جیا ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہے جسے آن لائن شہرت کے ساتھ جڑی تنقید اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلم یہ دکھاتی ہے کہ چاہے عورت گھریلو ہو یا جدید، معاشرہ اسے کسی نہ کسی خانے میں ڈال کر اس کا فیصلہ سنانے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔

کہانی اس وقت دلچسپ موڑ لیتی ہے جب آدھی رات کو دونوں بہنوں کو اپنی ماں کی ایک گھبرائی ہوئی کال موصول ہوتی ہے۔ ریکھا روتے ہوئے آخرکار یہ انکشاف کرتی ہے کہ اس کے گھر میں ایک لاش موجود ہے۔ یہی لمحہ فلم کے مرکزی سسپنس کا آغاز بنتا ہے اور ناظرین کو ہنسی، تجسس اور تناؤ سے بھرپور سفر پر لے جاتا ہے۔

فلم میں طنز اور مزاح کے ذریعے اس منافقت کو اجاگر کیا گیا ہے جس میں مردوں کی غلطیوں کو آسانی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ خواتین کے معمولی رویوں کو بھی کردار کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ سشما کو ایک مرد کو گلے لگانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن متعلقہ مرد بغیر کسی سوال کے بچ نکلتا ہے۔ یہی دوہرا معیار پوری فلم میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

’ماں بہن‘ ایسی فلم ہے جو ناظرین کو ہنساتی بھی ہے اور بے چین بھی کرتی ہے۔ یہ عورتوں پر مسلط سماجی لیبلز، اخلاقی پولیسنگ اور کردار کشی کی روایت پر سخت سوالات اٹھاتی ہے۔ فلم کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ معاشرہ عورت کو کبھی صرف ایک انسان کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے ہمیشہ کسی نہ کسی شناخت، الزام یا تعلق کے دائرے میں قید کر دیتا ہے۔

مادھوری ڈکشٹ اور ترپتی ڈمری کی مضبوط پرفارمنس، کاٹ دار مکالمے اور سماجی رویوں پر گہرا طنز ’ماں بہن‘ کو ایک ایسی فلم بنا دیتا ہے جو محض تفریح فراہم نہیں کرتی بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔