ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری کائنات اب بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
کائنات کی توسیع سے متعلق ایک اہم تحقیق میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایک مخصوص قسم کے ستاروں کے دھماکوں کے اعداد و شمار کا ازسرِنو جائزہ لینے کے بعد اس دیرینہ نظریے کی توثیق کر دی کہ کائنات اب بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ یہی مشاہدہ 1990 کی دہائی میں ایک پراسرار کائناتی قوت ڈارک انرجی کی دریافت کا سبب بنا تھا۔
اس نئی تحقیق نے گزشتہ سال شائع ہونے والی اُس تحقیق کی تردید کر دی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کائنات کی توسیع کی رفتار اب مزید نہیں بڑھ رہی۔ اس دعوے نے فلکیات کے بنیادی نظریات پر سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن کے ماہرِ فلکیات بروڈی پوپوک (جو اس تحقیق کے سربراہان میں شامل ہیں) نے کہا کہ کائنات اب بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بہت کچھ ایسا ہے جسے ہم نہیں جانتے اور جسے جاننے کے لیے پُرجوش ہیں لیکن ہمارا خیال ہے کہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس ماہ سائنسی جریدے منتھلی نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دو مختلف ڈیٹا سیٹس کا استعمال کیا گیا۔ یہ مشاہدات ٹائپ ون اے سپرنووا نامی ستاروں کے طاقتور دھماکوں پر مبنی تھے، جن کی مدد سے سائنس دانوں نے کائنات میں موجود بے پناہ فاصلوں کا حساب لگایا۔
ٹائپ ون اے سپرنووا اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب وائٹ ڈوارف نامی فلکی جِرم تباہ ہو جاتا ہے۔ وائٹ ڈوارف دراصل کم یا درمیانے حجم کے ستاروں کی زندگی کے اختتام پر بچ جانے والا انتہائی گھنا اور گرم باقی ماندہ حصہ ہوتا ہے۔