وقت کی تیز رفتاری

تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ طاقتور اور جابرانہ نظام ہمیشہ یادداشت سے خوف زدہ رہے ہیں


زاہدہ حنا June 17, 2026

ہم ایک ایسے زمانے میں زندہ ہیں جس کی سب سے نمایاں شناخت رفتار ہے۔ یہ رفتار صرف سڑکوں پر دوڑتی ہوئی گاڑیوں آسمان میں اڑتے ہوئے جہاز یا انٹرنیٹ کے تیز ترین رابطوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے انسانی ذہن احساسات اور طرز زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج کا انسان صبح آنکھ کھولتے ہی ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جہاں لمحہ بہ لمحہ نئی خبریں جنم لیتی ہیں، نئے رجحانات سامنے آتے ہیں اور نئے واقعات ہماری توجہ اپنی جانب کھینچنے لگتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا نے رفتار کو ترقی کامیابی اور اہمیت کا دوسرا نام بنا دیا ہو۔

اس تیز رفتار دنیا میں سب سے بڑا نقصان توجہ کا ہوا ہے۔ ہمارے پاس آج بھی دن کے چوبیس گھنٹے ہی ہیں مگر ان چوبیس گھنٹوں میں ہماری توجہ اتنے حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے کہ ہم کسی ایک چیز پر مکمل طور پر مرکوز ہونے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ ہم ایک خبر پڑھتے ہیں تو دوسری خبر ہماری اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہے۔ ایک واقعے پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسرا واقعہ پہلے کی جگہ لے لیتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز سے باخبر تو دکھائی دیتے ہیں لیکن بہت کم چیزوں کو حقیقی معنوں میں سمجھ پاتے ہیں۔

یہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا تضاد ہے کہ معلومات کی تاریخ کے شاید سب سے زرخیز دور میں رہتے ہوئے بھی فہم اور بصیرت کی کمی پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے پاس معلومات کے بے شمار ذخیرے موجود ہیں۔ ایک چھوٹا سا موبائل فون پوری دنیا کی لائبریریوں تک رسائی فراہم کر سکتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا معلومات کا انبار خودبخود حکمت میں تبدیل ہو جاتا ہے جواب نفی میں ہے۔ معلومات اور حکمت دو مختلف چیزیں ہیں۔ معلومات سے انسان کو دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اس کا ادراک ہوتا ہے جب کہ حکمت اسے یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کیوں ہو رہا ہے اور اس کے نتائج کیا ہوں گے۔

کبھی کبھی مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب زندگی کی رفتار نسبتاً دھیمی تھی۔ لوگ خط لکھتے تھے اور جواب کے انتظار میں دن گزارتے تھے۔ اس انتظار میں بے صبری بھی ہوتی تھی اور محبت بھی ایک خط محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا تھا بلکہ جذبات، یادوں اور تعلقات کا امین ہوتا تھا۔ کتابیں خریدی بھی جاتی تھیں اور پڑھی بھی جاتی تھیں۔ ایک اچھی کتاب کئی دنوں بلکہ کئی ہفتوں تک انسان کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے خیالات قاری کے ذہن میں اترتے تھے ،اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے تھے اور بعض اوقات اس کی زندگی کا رخ بھی بدل دیتے تھے۔

اخبارات صبح گھروں میں پہنچتے تھے اور شام تک ان میں شائع ہونے والی خبروں پر گفتگو جاری رہتی تھی۔ لوگ اختلاف رائے رکھتے تھے، بحث کرتے تھے، اپنے موقف کے حق میں دلائل دیتے تھے لیکن کم از کم اتنا وقت ضرور نکالتے تھے کہ کسی ایک موضوع پر سنجیدگی سے غور کر سکیں۔ آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔ ہمارے پاس ہر لمحہ تیزی سے معلومات آ رہی ہے مگر غور و فکر کے لیے وقت اور حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

 یقیناً ماضی میں ہر چیز مثالی نہیں تھی۔ اس وقت بھی ناانصافی تھی سیاسی جبر تھا، جنگیں تھیں اور محرومیاں تھیں، لیکن اس زمانے میں انسان کے پاس سوچنے اور محسوس کرنے کے لیے نسبتاً زیادہ فرصت تھی۔ وہ کسی واقعے کو صرف دیکھتا نہیں تھا بلکہ اس کے اثرات کو اپنے اندر محسوس بھی کرتا تھا۔ وہ کسی خبر کو محض پڑھ کر آگے نہیں بڑھ جاتا تھا بلکہ اس کے پس منظر اور نتائج پر غور کرتا تھا۔ آج ہم خبروں کے طوفان سے گزر رہے ہیں مگر ان کی گہرائی میں اترنے کا وقت نہیں نکال پاتے۔

اصل مسئلہ وقت کی کمی نہیں بلکہ توجہ کے بحران کا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو آسان ضرور بنایا ہے مگر اس نے ہماری توجہ کو ایک ایسی منڈی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ہر ادارہ، ہر کمپنی اور ہر پلیٹ فارم ہماری نگاہوں اور ذہنی توانائی کو حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سوشل میڈیا کے الگورتھم ہماری دلچسپیوں کو جانتے ہیں ،اشتہارات ہماری کمزوریوں کو پہچانتے ہیں اور مختلف پلیٹ فارم مسلسل ہمیں اپنی طرف متوجہ رکھنے کے لیے نئے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں۔

 اس مسلسل کشمکش نے انسان کے اندر ایک عجیب بے چینی پیدا کر دی ہے۔ خاموشی جو کبھی سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی ،اب بہت سے لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔ چند منٹ کا انتظار بھی ہمیں مشکل محسوس ہوتا ہے۔ تنہائی ملے تو فوراً موبائل فون کی طرف ہاتھ بڑھ جاتا ہے۔ ہم اپنی ذات سے ملاقات کے بجائے اسکرین کی دنیا میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم اپنے اندر جھانکنے اور اپنے آپ کو سمجھنے کا ہنر کھوتے جا رہے ہیں۔حالانکہ انسان کی سب سے اہم گفتگو دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے ہوتی ہے۔ یہی گفتگو اسے اپنے خوف، خواہشات، کمزوریوں اور امکانات سے روشناس کراتی ہے۔ جب یہ اندرونی مکالمہ کمزور پڑ جاتا ہے تو انسان باہر کی دنیا سے تو جڑا رہتا ہے مگر اپنے وجود کے مرکز سے دور ہونے لگتا ہے۔

 شاید اسی لیے آج کتاب پڑھنا ایک خاموش مزاحمت بن چکا ہے۔ کتاب کا مطالعہ صرف معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ وقت کو ایک مختلف انداز میں برتنے کا عمل بھی ہے۔ جب کوئی شخص ایک اچھی کتاب کے ساتھ بیٹھتا ہے تو وہ دراصل اس تیز رفتار وقت کے خلاف کھڑا ہوتا ہے جو ہر لمحہ اسے جلدی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کتاب قاری سے صبر کا مطالبہ کرتی ہے ،غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے اور اسے خیالات کی گہرائی میں اترنے کا موقع فراہم کرتی ہے، یہی ٹھہراؤ انسانی شعور کو وسعت دیتا ہے۔

 اسی طرح لکھنا بھی مزاحمت کی ایک صورت ہے۔ تحریر یادداشت کو محفوظ رکھنے کا عمل ہے۔ جب انسان اپنے مشاہدات تجربات اور احساسات کو الفاظ کا روپ دیتا ہے تو وہ وقت کے تیز بہاؤ میں ایک نشان ثبت کر دیتا ہے۔ وہ گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جنھیں فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ تحریر انسانی وجود کی گواہی ہے اور یہی گواہی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی ہے۔

 تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ طاقتور اور جابرانہ نظام ہمیشہ یادداشت سے خوف زدہ رہے ہیں۔ آمریت صرف زبانوں پر پابندی نہیں لگاتی بلکہ وہ لوگوں کی اجتماعی یادداشت کو بھی کمزور کرنا چاہتی ہے، کیونکہ جو سماج یاد رکھتے ہیں وہ سوال بھی کرتے ہیں اور مزاحمت بھی۔ یادداشت دراصل آزادی کی پہلی شرط ہے۔ جو قومیں اپنی تاریخ کو فراموش کر دیتی ہیں وہ اکثر اپنی غلطیوں کو دہرانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

آج جب مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے تو ایک اور بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے انسان ہونے کا مطلب کیا ہے اگر مشین معلومات محفوظ کر سکتی ہے تجزیے کر سکتی ہے اور بہت سے فیصلے بھی لے سکتی ہے تو پھر انسان کی انفرادیت کہاں باقی رہتی ہے؟

شاید اس سوال کا جواب رفتار میں نہیں بلکہ احساس میں پوشیدہ ہے۔ ہمدردی، محبت ،تخیل اخلاقی شعور یادداشت اور دکھ کو محسوس کرنے کی صلاحیت وہ خصوصیات ہیں جو انسان کو مشین سے ممتاز بناتی ہیں۔ ایک مشین معلومات کو جمع کر سکتی ہے مگر کسی انسان کے احساسات کو محسوس نہیں کر سکتی۔ وہ اعداد و شمار کا تجزیہ کر سکتی ہے مگر محبت قربانی اور امید کے تجربے کو نہیں جی سکتی۔ اسی لیے ہمارے عہد کی سب سے بڑی ضرورت مزید رفتار نہیں بلکہ زیادہ شعور ہے۔ ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کب دوڑنا ہے اور کب رکنا ہے، کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے، کب معلومات حاصل کرنی ہے اور کب اس پر غور کرنا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف آگے بڑھنا نہیں بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں۔

جب آپ کسی شام موبائل فون کو ایک طرف رکھ کر کتاب کھولتے ہیں جب آپ کسی بزرگ کی بات توجہ سے سنتے ہیں جب آپ کسی دوست کو دل سے لکھا ہوا پیغام بھیجتے ہیں،جب آپ کسی انسانی المیے پر خاموشی سے غور کرتے ہیں یا کسی بھولی ہوئی جدوجہد کو یاد کرتے ہیں تو بظاہر آپ ایک معمولی کام کر رہے ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں آپ اپنے عہد کے سب سے بڑے دباؤ کے خلاف مزاحمت کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس شور زدہ دنیا میں شعور یادداشت اور انسانیت کے چراغ کو روشن رکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

شاید یہی ہمارے زمانے کی سب سے اہم بات ہے رفتار کے جنون کے مقابلے میں شعور کا ہونا فراموشی کے مقابلے میں یادداشت کی حفاظت اور بے حسی کے مقابلے میں انسانیت پہ اصرار۔ کیونکہ زندگی کا حقیقی حسن صرف تیزی سے آگے بڑھنے میں نہیں بلکہ کبھی کبھی رک کر خود کو دوسروں کو اور اپنے عہد کو سمجھنے میں پوشیدہ ہے۔