رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
برادرم امیر العظیم کمال کی شخصیت تھے۔ان کی شخصیت میں بردباری ،ملنساری،شگفتگی،مسکراہٹ ،جرات،نظریاتی پختگی،مدد کرنے کاجذبہ یا کسی کی غمی اور دکھ میں کھڑے ہونے کی صلاحیت بہت خوب تھی۔جو لوگ قریب سے برادرم امیر العظیم کو جانتے تھے وہ اس بات کی گواہی لازمی دیں گے ان میں محبت کا پہلو اور دوستی نبھانے کا پہلو بہت مضبوط تھا۔ایک بار ان کے پاس جو آیا وہ ان کا گرویدہ ہوگیا اور آخر تک ان کا دوست ہی رہا۔امیر العظیم بنیادی طور پر ایک مجلسی آدمی تھے اور ان کی مجلس کی خوبی میں دائیں اور بائیں بازو کی محفلیں یا نشستیں بھی تھیں جہاں وہ مخالف کا موقف سنتے اور اپنا موقف دلیل اور منطق کی بنیاد پر پیش کرتے۔کمال یہ تھا کہ مخالف کے نقطہ نظر سے اختلاف کے باوجود وہ دوسروں کا شخصی احترام کرتے اور ان کی بات کو مکمل سنا کرتے تھے۔ایک محفل میںمعروف دانشور اور لکھاری فرخ سہیل گوئندی کے دفتر میں ان سے طویل مکالمہ ہوا اور محسوس ہی نہیں ہوا کہ دو مختلف نظریات کے لوگ کتنے مہذب انداز میں اپنا اپنا سیاسی مقدمہ ایک دوسرے کو پیش کررہے ہیں۔نہ کوئی تلخی اور نہ کوئی ٹکراو اور نہ کوئی الزامات کی بارش اور اس پر امیر العظیم کا یہ جملہ یاد ہے کہ اب لاہورمیںایسی علمی و فکری مجالس کہاں جہاں ہم آزادانہ طور پر اور ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ بات چیت ہوسکے۔ وہ پکے لاہوری تھے اور ان کی پیداش کرشن نگر میں ہوئی اور لاہور میں ان کے حمایتی اور مخالفین انھیں شہر کے ماتھے کا جھومر سمجھتے تھے ،کیونکہ لاہور کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں امیر العظیم کی موجودگی ہر جگہ دیکھنے کو ملتی تھی۔
بردارم سلمان غنی سے ان کا مسلسل رابطہ رہا اور آخری بار ان کے بقول ان کی صحت اب کافی بہتر ہے ۔اللہ تعالی ان کی مدد کرے گا۔لیکن آج ان کے انتقال کی خبر نے مجھ سمیت سب کو ہی اداس کردیا۔یہ ہی وجہ تھی کہ ان کے انتقال پر ان کی مخالف سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو بھی سب نے دیکھا۔واحد وجہ یہ تھی ان کے تعلقات سب ہی جماعتوں سے بہتر تھے اور سب سے احترام کے ساتھ ملنا ان کی خوبی تھی ۔ان کے بقول نظریات اپنی جگہ لیکن ہمیں انسانی قدروں کا بھی احترام کرنا چاہیے۔
برادرم طارق احسن اور تنویر شہزاد کے گھر مختلف ناشتوں اور کھانوں میں امیر العظیم خوب گفتگو کرتے اور خوش خوراک بھی تھے۔میاں محمود الرشید کے سیاسی ڈیرے پر دوپہر کے دیسی کھانے میں ان کی آمد مجلس کو اور زیادہ سجا دیتی تھی۔سلمان غنی ،مجیب الرحمن شامی ،سجاد میر،حفیظ اللہ نیازی کی مجلس میاں محمود الرشید کے ڈیرے پر سیاسی بیٹھک بن جایا کرتی تھی۔پچھلے کئی برسوں سے وہ کینسر کے مرض کا شکار ہوئے اور بڑی بہادری اور استقامت کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا۔مگر اپنی بیماری کو نہ اپنے اوپر طاری کیا اور نہ ہی اپنے کام پر اور اسی بنیاد پر آخری دم تک کام کرتے رہے، وہ اللہ تعالی کے حضور پیش ہوگئے۔ہم سب کی دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور ان کی محنت کو قبول کرے آمین۔
امیر العظیم ان لوگوں میں سے تھے جو طلبہ سیاست کی بنیاد پر منظر عام پر آئے اور اسلامی جمعیت طلبہ اور مولانا مودودی کی فکر سے متاثر تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پورے ملک میں دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی جنگ تھی اور اس جنگ میں طلبہ تحریک ہراول دستہ تھی۔اس نظریاتی کشمکش میں طلبہ تحریک کو بہت عروج ملا اور اس کا دائرہ کار ہمیں قومی سیاسی تحریکوں میں بھی دیکھنے کو ملا۔امیر العظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک کارکن سے اس تنظیم کے پاکستان کے سربراہ بنے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امیر العظیم 1986میں جیل میں تھے جب جمعیت کی شوری نے ان کو پاکستان کا ناظم اعلی منتخب کیا اور حلف نظامت بھی انھوں نے جیل میں پڑھا۔اسی طرح جامعہ پنجاب کی طلبہ یونین جمعیت کے صدر بھی منتخب ہوئے ۔طلبہ تنظیموں پر لگنی والی پابندی کا مقدمہ بھی خوب لڑا اور کافی عرصہ تک جیل میں رہے۔
اسی دوران ایک روزنامہ کی سرخی بھی بنی جو جنرل ضیا الحق کے نام سے لگی کہ کوئی امیر العظیم ہو یا امیر الاعظم،میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔حالانکہ اس وقت یہ ہی کہا جاتا تھاکہ جماعت اسلامی کی پالیسی جنرل ضیا کے قریب تھی اور امیر جماعت میاں طفیل محمد مرحوم ان کے قریب تھے ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ہی برسوں میں اسلامی جمعیت طلبہ نے جنرل ضیا کی مخالفت میں طلبہ یونین پر پابندی کا مقدمہ خوب لڑا اور سڑکوں پر جنرل ضیا کی مخالفت میں خوب نعرے بھی لگتے تھے ۔ایک بار نجی فکری مجلس میں دوران گفتگو انھوں نے اعتراف کیا کہ جمعیت میں ہم سے بہت غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور ان غلطیوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔طلبہ سیاست کے بعد ان کا میدان عملا جماعت اسلامی پاکستان تھا اور آخری سانس تک اس کے ساتھ بطور سیکریٹری جنرل پاکستان وابستہ رہے۔
برادرم عبدالغفار عزیز جو جماعت اسلامی کے امور خارجہ کے سربراہ تھے اور برادرم حافظ سلمان بٹ کی بیماری سے لے کر وفات تک امیر العظیم نے کمال کی خدمات انجام دی۔بنیادی طور پر وہ خود ایڈورٹائزنگ کے شعبہ سے وابستہ تھے اور اس کام میں ان کی خوب گرفت تھی ۔لیکن جماعت اسلامی کی وجہ سے ان کا کام بھی متاثر ہوتا تھا تو وہ کہتے تھے گھر کا نظام تو اللہ تعالی چلارہے ہیں اور تحریک کو بھی وقت دینا ہے۔ان سے ابتدا میں کچھ ملاقاتیں برادرم مرحوم تاثیر مصطفی کی مدد سے ہوئی اور وہ کمال کی نشستیں تھیں جہاں ان کے کام سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے اور پھر اس کے بعد سیاسیات میں ماسٹرز کیا تھا۔طلبہ تحریک میں ان کی جدوجہد کمال کی تھی اور جنرل ضیا الحق کے دور میں جب طلبہ یونین پر پابندی لگی تو وہ اس پابندی کے خلاف چلنے والی تحریک میں سب سے آگے تھے۔
ان کا تعلق کیونکہ جماعت کے شعبہ نشرواشاعت یعنی سیکریٹری اطلاعات کے طور پر بھی رہا تو خود دائیں اور بائیں بازو کے صحافیوںسے ان کے تعلقات مثالی تھے اور اپنے خاص نظریات کے باوجود وہ سب سے ہی رابطے میں رہتے تھے۔ان کو جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم،سید منور حسن مرحوم سمیت سابق امیر سراج الحق اور اب موجودہ امیر حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ مختلف ذمے داریوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ مختلف امیر جماعت کے ساتھ صحافیوں کی فکری نشستوں کا اہتمام بھی امیر العظیم ہی کیا کرتے تھے اور ان نشستوں میں دائیں اور بائیں بازو دونوں سے تعلق رکھنے والے صحافی ہوتے اور خوب مجلس کو سجایا جاتا۔
امیر العظیم ان سیاسی لوگوں میں سے ہیں جن کی پوری زندگی کسی بھی آلودگی کا شکار نہیں رہی اور ان کے سخت سے سخت مخالف بھی ان پر گواہی دیں گے کہ وہ ایک صاف ستھری زندگی کے ساتھ رخصت ہوئے ہیں ۔جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی کارکن ان پر فخر کرسکتے ہیں اور ان کے خیالات یا فکر پر تنقید بھی کرسکتے ہیں مگر ان کی بہتر شخصیت کی گواہی سب ہی دیں گے۔آج پاکستان کی سیاست کا جو حال ہے اور اس پر جو ماتم کیا جاتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ امیر العظیم سمیت تمام جماعتوں میں سے اچھے لوگوں کا اقتدار کی سیاست میں پیچھے رہ جانا ہے ۔اگر اس طرزکے لوگ سیاست میں اوپر آتے تو آج ہماری سیاست کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔
ابھی وقت نہیں تھا تیرے جانے کا
تو نے جانے میں بہت جلدی کی