مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے مباحث کا مرکز بنا ہوا ہے، تاہم حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب پیش رفت نے ایک ایسے امکان کو جنم دیا ہے جسے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی کرن قرار دیا جا سکتا ہے۔
کئی برسوں سے جاری کشیدگی، اقتصادی پابندیوں، پراکسی تنازعات اور عسکری دھمکیوں کے ماحول میں یہ پیش رفت اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ سفارت کاری، اگر سنجیدگی اور سیاسی عزم کے ساتھ آگے بڑھائی جائے، تو بظاہر ناقابلِ حل دکھائی دینے والے تنازعات میں بھی راستہ نکال سکتی ہے۔ تاہم اس خوش آئند پیش رفت کے ساتھ کئی پیچیدہ سوالات اور خدشات بھی وابستہ ہیں جو اس معاہداتی عمل کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سخت تنبیہ اور دوسری طرف ایرانی قیادت کے اس مؤقف کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں معاہدے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اگرچہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم سنگ میل ہے، لیکن حقیقی آزمائش اس وقت شروع ہوگی جب دونوں فریق حتمی معاہدے کی شرائط، نگرانی کے طریق کار، پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے عملی اقدامات کی جانب بڑھیں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی متعدد پیش رفتیں باہمی بداعتمادی، داخلی سیاسی دباؤ اور علاقائی طاقتوں کے تحفظات کے باعث پائیدار نتائج پیدا نہیں کر سکیں۔اس پیش رفت کا سب سے فوری اور نمایاں اثر عالمی معیشت پر دکھائی دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی منڈیاں جغرافیائی سیاسی خطرات کو کس قدر سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ ایران کے تیل کی عالمی منڈی میں ممکنہ واپسی نے رسد کے بارے میں خدشات کم کیے ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں پر دباؤ گھٹا ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا نئی بلندیوں تک پہنچنا بھی اسی اعتماد کا اظہار ہے۔
توانائی کی بلند قیمتیں گزشتہ برسوں میں عالمی مہنگائی کی بڑی وجوہات میں شامل رہی ہیں، اس لیے اگر تیل کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ایک جانب تیل کی قیمتوں میں کمی درآمدی بل کو کم کر سکتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ گھٹا سکتی ہے اور مہنگائی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی معیشت، جو بیرونی ادائیگیوں اور توانائی کے اخراجات کے مسائل سے دوچار رہی ہے، ایسے ماحول سے فائدہ اٹھا سکتی ہے جس میں عالمی منڈیاں نسبتاً مستحکم ہوں۔ اس تناظر میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا مثبت ردعمل سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے، اگرچہ اس اعتماد کو پائیدار بنانے کے لیے داخلی اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اور اہم پہلو پاکستان کا سفارتی کردار ہے۔ برطانوی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا جانا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں محض ایک متاثرہ فریق نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی قوت کے طور پر بھی سامنے آ چکا ہے۔ اسلام آباد متوازن اور تعمیری سفارت کاری کے ذریعے متحارب قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوا ہے جو اس کے عالمی تشخص کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ موجودہ حالات میں دنیا کو محاذ آرائی سے زیادہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ جنگی بیانات وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں لیکن پائیدار امن کا راستہ مذاکرات، باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے ہی نکلتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری عمل ابھی اپنی منزل سے دور ہے، مگر یہ حقیقت اہم ہے کہ فریقین ایک بار پھر بات چیت کی میز پر موجود ہیں، اگر اس موقع کو دانش مندی سے استعمال کیا گیا تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور بین الاقوامی امن کو بھی اس کے مثبت ثمرات حاصل ہو سکتے ہیں، جب کہ پاکستان کے لیے یہ ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے وہ امن، استحکام اور تعمیری سفارت کاری کے علمبردار کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکتا ہے۔