دنیا کے نوجوان

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آج کا نوجوان صرف موبائل فون کی اسکرین تک محدود ہو چکا ہے


زاہدہ حنا August 01, 2026

کبھی کبھی تاریخ کے صفحات پر ایک ایسا سکوت طاری ہو جاتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے اپنی رفتار کھو دی ہو۔ نوجوانوں کی آنکھوں سے خواب رخصت ہو گئے ہوں، احتجاج کی صدائیں کہیں دب چکی ہوں اور تبدیلی کی خواہش دم توڑ چکی ہو مگر تاریخ کا مطالعہ ہمیں ایک مختلف حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔

خاموشی ہمیشہ جمود کی علامت نہیں ہوتی۔ زمین کے اندر بہنے والا لاوا بھی برسوں تک خاموش رہتا ہے لیکن جب اس کے پھٹنے کا لمحہ آتا ہے تو وہ صرف پہاڑوں کی ہیئت نہیں بدلتا بلکہ نئے راستے بھی تراش دیتا ہے۔ سماج میں نوجوان بھی اس لاوے کی مانند ہوتے ہیں، وہ بظاہر خاموش دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے ذہنوں میں سوال، بے چینی اور تبدیلی کی آرزو مسلسل جنم لیتی رہتی ہے۔

آج دنیا بھر میں جنریشن زی کا ذکر عام ہے۔ اس نسل کو سوشل میڈیا اسمارٹ فون اور مصنوعی ذہانت کی نسل کہا جاتا ہے۔ بعض لوگ اسے انتہائی باخبر قرار دیتے ہیں تو کچھ اسے سطحی اور جلدباز سمجھتے ہیں لیکن ہر نسل کی طرح اس نسل کو بھی صرف ٹیکنالوجی سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

انسان کی سوچ محض کتابوں یا اسکرین سے نہیں بنتی بلکہ اس کا سماجی ماحول، معاشی حالات، سیاسی تجربات اور روزمرہ زندگی کے مسائل اس کی شخصیت اور شعور کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس لیے ہر ملک کا نوجوان خواہ وہ عالمی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ ہو، اپنے سماج کی مخصوص حقیقتوں کا بھی عکس ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنریشن زی میں بیک وقت مماثلت بھی ہے اور نمایاں اختلاف بھی۔ دونوں ممالک کے نوجوان ایک ہی ڈیجیٹل دنیا میں سانس لیتے ہیں، ایک جیسی موسیقی سنتے ہیں، ایک ہی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت سے ایک جیسے سوال پوچھتے ہیں مگر جب وہ اپنے اپنے سماج کی حقیقتوں سے روبرو ہوتے ہیں تو ان کے مسائل، ترجیحات اور ردِعمل مختلف ہو جاتے ہیں۔

بھارت کا نوجوان بے روزگاری، معاشی عدم مساوات، مذہبی کشیدگی، تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت اور اظہارِ رائے سے متعلق بحثوں کا سامنا کر رہا ہے۔ پاکستان کا نوجوان بھی روزگار، تعلیم اور سماجی انصاف جیسے سوالات سے دوچار ہے لیکن اس کے ساتھ سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، مہنگائی اور محدود مواقع اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ دونوں سماجوں کے نوجوان سوال کرتے ہیں مگر ان سوالوں کا لہجہ اور سمت ان کے اپنے زمینی تجربات سے جنم لیتے ہیں۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ نوجوان کسی بھی سماج میں تبدیلی کی سب سے متحرک قوت رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو ساٹھ کی دہائی میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (DSF) اور بعدازاں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) نے صرف تعلیمی مسائل تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جمہوریت، سماجی انصاف اور فکری آزادی کے مباحث کو بھی نئی توانائی دی۔

ان تنظیموں کے کارکنوں کے لیے کتاب صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور کی علامت تھی اور دلیل ان کا سب سے مضبوط ہتھیار۔ اس دور کے طلبہ بعد میں قومی سیاست کا بھی حصہ بنے اور ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ بعد کے برسوں میں طلبہ یونینوں پر پابندیوں نے جامعات کی فضا کو نمایاں طور پر بدل دیا۔

کیمپس جو کبھی مکالمے، اختلافِ رائے اور سیاسی تربیت کے مراکز سمجھے جاتے تھے، بتدریج خاموش ہوتے گئے۔ ایک پوری نسل ایسی پروان چڑھی جسے اجتماعی سیاست اور منظم طلبہ سرگرمیوں کا براہِ راست تجربہ حاصل نہ ہو سکا۔ اس خاموشی کو بعض لوگوں نے نوجوانوں کی بے حسی سمجھ لیا حالانکہ خاموشی اور بے حسی ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے مختلف شہروں میں طلبہ نے ایک مرتبہ پھر اپنے مطالبات کے ساتھ منظم انداز میں آواز بلند کی۔ طلبہ یونینوں کی بحالی، تعلیمی سہولتوں میں بہتری، اظہارِ رائے کے تحفظ اور بہتر تعلیمی ماحول جیسے مطالبات نے یہ واضح کیا کہ نوجوان سماج سے لاتعلق نہیں ہوئے۔ ان کے اظہار کے ذرائع بدل گئے ہیں لیکن سوال پوچھنے کی خواہش باقی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری سماج کی کمزوری نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہوتا ہے۔

دنیا کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے۔ فرانس کی طلبہ تحریکوں سے لے کر لاطینی امریکا کی جمہوری جدوجہد، جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف مزاحمت، ویتنام کی جنگ مخالف تحریکوں اور فلسطین کے نوجوانوں تک ہر دور میں نئی نسل نے اپنے عہد کے بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔

ان تحریکوں کی نوعیت مقاصد اور نتائج یقینا ایک دوسرے سے مختلف تھے لیکن ایک حقیقت مشترک رہی کہ نوجوان اکثر ان تبدیلیوں کے ابتدائی محرک بنے جنھوں نے بعد میں پورے سماج کو متاثر کیا۔

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آج کا نوجوان صرف موبائل فون کی اسکرین تک محدود ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی ڈیجیٹل دنیا اس کے لیے معلومات، مکالمے اور تنظیم کا نیا میدان بھی بن گئی ہے۔ وہ دنیا بھر میں ہونے والے احتجاج دیکھتا ہے، نئی تحقیق تک رسائی حاصل کرتا ہے، مختلف نظریات سے واقف ہوتا ہے اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔

یقینا سوشل میڈیا غلط معلومات، تعصب اور انتشار کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے لیکن اسی پلیٹ فارم نے بہت سے نوجوانوں کو ایسے عالمی مباحث سے بھی جوڑا ہے جن تک ماضی میں رسائی آسان نہ تھی۔

آج کا نوجوان ماحولیاتی تبدیلی، صنفی مساوات، معاشی انصاف، ذہنی صحت، جنگوں کے اثرات اور ٹیکنالوجی کے سماجی نتائج جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کرتا ہے، یہ وہ مسائل ہیں جنھیں گزشتہ نسلیں ہمیشہ اس شدت سے اپنے سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنا سکیں۔ اس لیے نئی نسل کو صرف اس بنیاد پر کمزور قرار دینا کہ اس کے اظہار کے طریقے مختلف ہیں، حقیقت کا ادھورا مطالعہ ہوگا۔

یقینا ہر نوجوان ترقی پسند نہیں ہوتا اور نہ ہر نوجوان انقلابی ہوتا ہے۔ جس طرح پورا سماج مختلف نظریات، طبقات اور ترجیحات پر مشتمل ہوتا ہے مگر ایک حقیقت تقریباً ہر جگہ مشترک دکھائی دیتی ہے کہ نوجوان اپنے عہد کے بنیادی مسائل سے سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں، اگر انھیں روزگار نہیں ملتا تو وہ روزگار کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر تعلیم مہنگی ہو جاتی ہے تو وہ انصاف کی بات کرتے ہیں اور اگر اظہارِ رائے محدود ہوتا ہے تو آزادی کے سوال زیادہ شدت سے ابھرتے ہیں، یہی سماجی ارتقا کا فطری عمل ہے۔

ہمارے ہاں اکثر نئی نسل پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ ماضی سے ناواقف ہے، قربانی کا جذبہ نہیں رکھتی اور صرف سہولت چاہتی ہے مگر شاید ہر نسل کے بارے میں اس سے ملتے جلتے شکوے مختلف ادوار میں کیے جاتے رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر نسل اپنی زبان میں بات کرتی ہے۔ ساٹھ کی دہائی کا طالب علم سائیکلو اسٹائل مشین سے پمفلٹ چھاپتا تھا، آج کا نوجوان ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اپنی بات کہتا ہے، اگر مقصد انصاف آزادی اور بہتر سماج ہو تو اظہار کے ذرائع بدل جانے سے تاریخ کی سمت تبدیل نہیں ہوتی۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان پر اعتماد کیا جائے۔ تعلیمی اداروں کو دوبارہ مکالمے، تحقیق اور اختلافِ رائے کے مراکز بنایا جائے، طلبہ کو جمہوری انداز میں منظم ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انھیں یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی آواز قومی مستقبل کی تشکیل میں اہمیت رکھتی ہے۔ ایسا سماج جو اپنی سب سے متحرک اور تخلیقی قوت کو خاموش رکھنے کی کوشش کرے، بالآخر خود بھی فکری جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔

شاید آج ہمیں خاموشی زیادہ محسوس ہو رہی ہو، بظاہر ایسا لگتا ہو کہ نوجوان اپنے اندر سمٹ گئے ہیں لیکن تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ خاموشی کے اندر بھی ایک مسلسل حرکت جاری رہتی ہے۔ زمین کے اندر لاوا کبھی ساکن نہیں ہوتا، وہ اپنے وقت کا انتظار کرتا ہے۔ جب وہ پھٹتا ہے تو صرف پہاڑوں کا نقشہ نہیں بدلتا بلکہ نئے راستوں، نئی وادیوں اور نئے امکانات کو بھی جنم دیتا ہے۔

ممکن ہے پاکستان اور بھارت کی جنریشن زی مختلف راستوں پر چل رہی ہو اور ان کے مسائل، ترجیحات اور سیاسی تجربات بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں مگر ایک حقیقت دونوں کے درمیان مشترک ہے۔

نوجوان ہمیشہ اپنے عہد کا سب سے حساس طبقہ ہوتے ہیں، وہ اپنے زمانے کے دکھ کو سب سے پہلے محسوس کرتے ہیں، اس کے تضادات کو پہچانتے ہیں اور اگر انھیں امید، تنظیم، مکالمہ اور مقصد میسر آ جائے تو وہ تاریخ کا رخ بھی موڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر دور کی بڑی تبدیلیوں کے پس منظر میں نوجوانوں کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے، یہ چاپ کبھی دھیمی ہوتی ہے، کبھی بلند مگر مکمل طور پر کبھی خاموش نہیں ہوتی۔