ایران مثبت رویہ اپنائے تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی مل سکتی ہے، ٹرمپ

ایران کے ساتھ جوہری اور دیگر معاملات پر مذاکرات میں بھی پیش رفت ممکن ہے، امریکی صدر


ویب ڈیسک June 18, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہے، جبکہ ایران کے ساتھ جوہری اور دیگر معاملات پر مذاکرات میں بھی پیش رفت ممکن ہے۔

اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں، تاہم اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدامات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔

امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

انہوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ امریکی افواج کچھ عرصے تک خلیجی خطے میں موجود رہیں گی تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور فریقین کے درمیان رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور قطر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد فراہم کی۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف امور پر سفارتی رابطے اور مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔