سانحہ چکوال میں 9 سالہ ہانیہ کے قتل کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری اور تفتیش ایف آئی اے سے کرانے کے لیے آئینی درخواست لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں دائر کر دی گئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ جاں بحق ہوئی، جبکہ پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاندان کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق یہ واقعہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر سنگین حملہ اور ریاستی اداروں کے اختیارات کے استعمال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ سانحہ چکوال صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور انصاف کی فراہمی کے لیے فوری طور پر ایک آزاد اور خودمختار عدالتی کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا جائے۔
دوسری جانب ہائی کورٹ آفس نے درخواست پر اعتراضات عائد کر دیے، تاہم جسٹس صداقت علی خان نے اعتراضات سمیت درخواست کی سماعت کی۔
چکوال میں سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے 9 سالہ بچی کی ہلاکت کے واقعے کا ازخود نوٹس لینے کے لیے چیف جسٹس پاکستان کو خط ارسال کر دیا گیا ہے۔
خط عبداللہ ملک کی جانب سے چیف جسٹس آئینی عدالت کو بھجوایا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 اور 10 اے ہر شہری کو زندگی، آزادی اور منصفانہ ٹرائل کا حق فراہم کرتے ہیں جبکہ ریاستی اداروں پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ چکوال واقعے میں سی سی ڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 9 سالہ معصوم بچی کی جان لے لی، جبکہ آسٹریلیا سے وطن آنے والا خاندان سیر و تفریح اور خوشگوار یادوں کے ساتھ واپس جانا چاہتا تھا مگر اسے ایسا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ واقعے کا ازخود نوٹس لیا جائے، سی سی ڈی حکام اور متعلقہ ایس ایچ او کو طلب کرکے وضاحت مانگی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
خط کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض مواقع پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشتبہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرکے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ٹرائل کے عمل سے گزارنے کے بجائے خود ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، جو آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔