پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں بڑی وکٹ اڑا دی ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی رکن قانون ساز اسمبلی بیگم امتیاز نسیم پارٹی میں شامل ہو گئی ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق وزیر اور رکن آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی بیگم امتیاز نسیم نے تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی، شمولیتی پروگرام میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر مشتاق منہاس، راجا مجاہد اور راجا ریاست نے شرکت کی، وفاقی وزیر امیر مقام نے بیگم امتیاز نسیم اور ان کے ساتھیوں کو مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر خوش آمدید کہا۔
امیر مقام نے کہا کہ مشتاق منہاس نے 2002 سے میری استاد کی طرح رہنمائی کی، بیگم امتیاز نسیم کی خدمات صرف باغ یا آزاد کشمیر نہیں، پورا پاکستان حاصل کرے گا، بیگم امتیاز نسیم اور ان کے ساتھی ہمارے قافلے میں شامل ہوئے، انہیں عزت اور احترام دیا جائے گا، مسلم لیگ (ن) میں نئے شامل ہونے والوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست عزت، احترام اور عوامی خدمت کا نام ہے، بیگم امتیاز نسیم کا مسلم لیگ ن سے محبت اور وابستگی کا رشتہ ہمیشہ قائم رہا، پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مکمل عزت اور نمائندگی دی جائے گی اور بیگم امتیاز نسیم کی شمولیت سے مسلم لیگ (ن) مزید مضبوط ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے 38 نکاتی مطالبات کو تسلیم کیا اور عمل درآمد کیا، مہاجرین کی نشستوں کے متعلق ایکشن کمیٹی کا مطالبہ آئینی نوعیت کا تھا، نیا چارٹر آف ڈیمانڈ دیکھ کر افسوس ہوا ، جس پر تمام ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کے دستخط تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی نے 7 اضافی ڈیمانڈ شامل کرنے کا کہا اور نئے مطالبے میں بتایا گیا ہے پاکستان کے ساتھ وفاداری کا حلف لینے والی شق آئین سے ختم کی جائے۔
امیرمقام کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی نے کہا اگر ہمارے مطالبات نہیں مانتے تو ہم احتجاج کی کال واپس نہیں لیتے، نئے چارٹر آف ڈیمانڈ سے ایکشن کمیٹی کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں، آزاد کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق تمام مطالبات ہم ماننے کو تیار ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ میں نے مشتاق منہاس سے بہت کچھ سیکھا ہے، یہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے لیے بہت کام کر رہے ہیں، نواز شریف بھی کشمیری ہیں، مسلم لیگ (ن) کا آزاد جموں و کشمیر کی ترقی میں بہت زیادہ کردار ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہمارے مذکرات ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مذکرات کامیاب ہوں، عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کی نگرانی صدر مسلم لیگ (ن) خود کر رہے تھے، عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے چار پانچ اجلاس ہوئے لیکن آخری اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندے شامل ہی نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہماری عوامی ایکشن کمیٹی سے مظفر آباد میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں اصافہ کر دیا، عوامی ایکشن کمیٹی کے نئے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پاکستان سے وفاداری تبدیل کرنے کی شرط تھی۔
اس موقع پر بیگم امتیاز نسیم نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر کہا کہ میں اپنے گھر واپس آئی ہوں، میرے مرحوم شوہر کرنل (ر) نسیم مسلم لیگ (ن) کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے، مشتاق منہاس کے پاس موجود مینڈیٹ ہمارے خاندان کا مینڈیٹ ہے، اپنے حلقے اور عوام کے وسیع تر مفاد میں مسلم لیگ (ن) کو مضبوط کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے لیے اسی جذبے سے کام کروں گی جیسے خود الیکشن لڑ رہی ہوں، کرنل (ر) نسیم کے دور میں وسطی باغ میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے، وسطی باغ میں ترقی کا عمل رک گیا لیکن مسلم لیگ (ن) دوبارہ اسے بحال کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ مشتاق منہاس سمیت مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کی کامیابی کے لیے بھرپور مہم چلائیں گے۔
بیگم امتیاز نسیم نے دعویٰ کیا کہ وسطی باغ کی تینوں نشستیں مسلم لیگ (ن) جیتے گی اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) اکثریت سے حکومت بنائے گی اور27 جولائی کے بعد آزاد کشمیر کی محرومیاں ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔