ٹک ٹاک پر پابندی کی درخواست؛ عدالت کا متعلقہ اتھارٹی کو جواب جمع کرانے کا حکم

ٹک ٹاک پر بے ہودہ ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے،د رخواست گزار


ویب ڈیسک June 23, 2026

پشاور:

ٹک ٹاک پر پابندی کی درخواست پر عدالت نے متعلقہ اتھارٹی کو جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق دائر درخواست پر مختصر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (سمپرا) کو مقدمے میں فریق بنانے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت کے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے سمپرا کو فریق بنانے کے لیے ضمنی درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہو چکی ہے اور اب سوشل میڈیا سے متعلق معاملات اسی ادارے کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے وکیل کے مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمنی درخواست منظور کر لی گئی ہے اور سمپرا کو باضابطہ طور پر فریق بنا دیا گیا ہے۔

عدالت نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ 2 ہفتوں کے اندر اپنا جواب جمع کرائے۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر بابر شہزاد عمران نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر بے ہودہ ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت یا تو ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرے یا متعلقہ حکام کو اس پلیٹ فارم پر موجود مواد کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کرے۔

پشاور ہائیکورٹ نے معاملے پر مزید کارروائی کے لیے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔