ایران امریکا ایم او یو میں بیلسٹک میزائل کا کوئی ذکر نہیں، وزیراعظم؛ مسعود پزشکیان وطن واپس روانہ

مسعود پزشکیان کی صدر مملکت، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے اہم ملاقاتیں، شہباز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی


ویب ڈیسک June 23, 2026

اسلام آباد:

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہوئی مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں یہ نہیں ہوسکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں، ایران اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل کیوں نہیں رکھ سکتا؟

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے، انہوں ںے وزیراعظم، فیلڈ مارشل، صدر سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، وزیراعظم سے ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ نیوز کانفرنس بھی کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے نور خان ایئربیس پر ایرانی صدر کا استقبال کیا۔ ایرانی صدر خصوصی طیارے میناب 168 کے ذریعے اسلام آباد پہنچے۔

ایرانی صدر کو پاکستان آمد پر 21 توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے بھی سلامی دی۔

روایتی لباس میں ملبوس بچوں نے ایرانی صدر کو پھول پیش کیے، پاکستان اور ایران کے جھنڈے تھامے بچے ایرانی صدر کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ ایرانی صدر نے ہاتھ ہلا کر بچوں کے خیر مقدمی نعروں کا جواب دیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی قیادت کے ساتھ والہانہ انداز میں مصافحہ کیا۔

خیال رہے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی دعوت پر ایرانی صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایرانی صدر کا یہ سب سے پہلا دورہ ہے۔

ایرانی صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف پیش کیا گیا

ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان وزیرِ اعظم ہاؤس پہنچے جہاں وزیراعظم نے ان کا استقبال کیا، مسلح افواج کے دستوں نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان خوش گوار جملوں کا تبادلہ ہوا، ان کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں تقریب منعقد کی گئی۔

وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات

بعد ازاں ایرانی صدرمسعود پزشکیان کی وزیراعظم محمد شہباز شریف سے دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے وفود کی سطح پر ملاقات کی جس کے بعد مشترک نیوز کانفرنس کی۔

ایران امریکا ایم او یو میں بیلسٹک میزائل کا کوئی ذکر نہیں، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ دورہ پاکستان کے لیے پیشکش قبول کرنے پر میں ایرانی صدر کا شکر گزار ہوں، مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اس دورے پر بے حد خوشی ہوئی، ایران اور امریکا کے درمیان ہوئی مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر نہیں ہے، یہ معاملہ کبھی بھی ٹیبل یا ایجنڈے پر تھا ہی نہیں، ایران تو اس معاملے پر گفتگو کرنا بھی نہیں چاہتا، اسے غلط رنگ نہیں دیا جانا چاہیے کیوں کہ دنیا بھر میں اس امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے والے موجود ہیں۔

یہ نہیں ہوسکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں، وزیراعظم

شہباز شریف نے مزید کہا کہ بیلسٹک میزائل کے معاملے پر دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے یہ نہیں ہوسکتا کہ کچھ ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل ہوں اور ایران کے پاس نہ ہوں، ایران اپنے دفاع کے لیے بیلسٹک میزائل کیوں نہیں رکھ سکتا؟ یہ ایسی منافقت ہے جسے آپ ہضم نہیں کرسکتے، اس لیے میں واضح کردوں کہ ایم او یو پر بطور ثالث میرے دستخط موجود ہیں اس میں میزائل کو کوئی ذکر نہیں اور اس بارے میں کوئی ابہام بھی نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں روشن مستقبل کے لیے جمع ہوئے ہیں، ثالثی کے لیے پاکستان کی قابلیت پر بھروسا کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیںِ، یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان امن و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ایرانی قیادت، عوام کی دلیری اور جذبے کو سراہتا ہوں، ہم ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون کو فروغ دیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ خوشی ہے کہ ایران امریکا جنگ کا خاتمہ ہوا، دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے، بطور ثالث پاکستان نے خلوص نیت کے ساتھ کوششیں کیں، ایران کی خوشی ہماری خوشی ہے ایران کا غم ہمارا غم ہے، ایران کی کامیابی ہماری کامیابی ایران کا نقصان ہمارا نقصان ہے، سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی دور اندیش قیادت کو سراہتا ہوں۔

قبل ازیں ایرانی صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر پاکستان آصف علی زرداری سے بھی ملاقاتیں کیں۔

کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کی جانب سے ایرانی صدر کو ان کی صحت عامہ کی خدمات، شعبہ صحت کی تعلیم، طب کی تحقیق اور محنت و لگن کے ساتھ معاشرے کی خدمات کے اعتراف میں (Cardiac Surgery) شعبہ جراحیِ قلب میں اعزازی فیلو شپ تفویض کی گئی۔

فوٹو: وزیراعظم آفس

فوٹو: وزیراعظم آفس

ایرانی صدر کو پاکستان کی جانب سے اعزازی فیلو شپ سے پاکستان اور ایران کے مابین شعبہ طب بالخصوص پاکستان اور ایران کے میڈیکل کالجز کے مابین شعبہ طب کی تعلیم، اداروں کی سطح پر تعلیمی تبادلوں، طبی تحقیق، فیکلٹی اور ممتحنین کے تبادلوں میں تعاون کو فروغ ملے گا۔

ایرانی صدر کی آمد پر سخت ترین سیکیورٹی انتظامات

ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کے پیش نظر راولپنڈی میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ نور خان ایئربیس اور اس کے گرد و نواح میں سخت سیکیورٹی نافذ کی گئی ہے۔

ایرانی صدر کی آمد اور واپسی تک سیکیورٹی ڈیوٹی پر راولپنڈی پولیس کے 600 سے زائد افسران اور اہلکار تعینات رہیں گے۔

پولیس کے مطابق راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے تمام اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور وی آئی پی موومنٹ کے دوران کسی قسم کی کراسنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔

ایرانی صدر وطن واپس روانہ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد وفد کے ہمراہ وطن واپس روانہ ہوگئے۔

ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت

قبل ازیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی اسلام آباد دورے کے موقع پر وزارتوں میں کام کرنے والے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت جاری ہدایت کی گئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ‏کابینہ ڈویژن نے آج صبح ایران کے صدر کی اسلام آباد آمد کے موقع پر ریڈ زون میں قائم منسٹریز اور ڈویثزن دفاتر کے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق کابینہ ڈویژن، ایف بی آر، فنانس ڈویژن، وزارت خزانہ، وزارت خارجہ، انڈسٹریز، وزارت داخلہ اینڈ جسٹس، پارلیمانی افیئر، منصوبہ بندی اور وزیراعظم آفس کے ملازمین دفاتر آئیں گے۔

اس کے علاوہ ریڈ زون میں آنے والے خودمختار ادارے آج بند ہوں گے۔ اس ضمن میں ‏سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔