رابن ہُڈ کے پناہ گزین درخت کی عمر پوری ہوگئی

1200 سال پرانے درخت کو اس وقت مردہ قرار دیا گیا گیا جب اس نے اس موسم بہار کوئی نئی پتیاں نہیں نکالیں


ویب ڈیسک June 23, 2026
(تصویر: اے پی)

رابن ہُڈ کی مشہور داستان سے منسلک ایک عظیم و قدیم بلوط (اوک) کا درخت شاید لوگوں کی حد سے زیادہ محبت کا شکار ہو کر سوکھ گیا۔

رائل سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف برڈز نے میجر اوک نامی یہ اس 1200 سال پرانے درخت (جو شیرووڈ فاریسٹ میں واقع تھا) کو اس وقت مردہ قرار دیا گیا گیا جب اس نے اس موسم بہار کوئی نئی پتیاں نہیں نکالیں۔

تحفظِ ماحول کی تنظیم کے مطابق گزشتہ دو صدیوں کے دوران اس درخت کو دیکھنے کے لیے آنے والے بے شمار سیاحوں نے اس کے اردگرد کی مٹی کو اتنا دبا دیا کہ بارش کا پانی اس کی جڑوں تک مؤثر انداز میں پہنچنا مشکل ہو گیا۔ یوں درخت آہستہ آہستہ کمزور ہوتا چلا گیا۔

یہ جنگل کئی برسوں سے مختلف خطرات سے دوچار رہا ہے اور ماضی میں بھی بارہا یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ یہ تاریخی درخت مر چکا ہے۔ تاہم، ہر بار تحقیق کے بعد ثابت ہوا کہ درخت ابھی زندہ تھا۔

مگر اس بار صورتحال مختلف ہے۔

ادارے کی نمائندہ ہولی ڈریک نے بیان میں کہا کہ اس سال درخت کا پتیاں نہ نکالنا ہم سب کے لیے دل توڑ دینے والی خبر ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہی عظیم درخت رابن ہُڈ کی پناہ گاہ تھا۔ روایت کے مطابق رابن ہُڈ تیرھویں صدی کا ایک مشہور باغی تھا جو امیروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا اور جب ناٹنگھم کا شیرف اس کے تعاقب میں ہوتا تو وہ شیر ووڈ کے جنگل میں آ کر چھپ جاتا تھا۔