اسلام آباد:
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ انہوں نے مظفرآباد کی طرف کل کا مارچ مؤخر کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے خط کا ویڈیو جواب دیا ہے اور حکومت کو بھی آگاہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی طرف سے تقریروں کی بنیاد پر ایکشن لیا جانا کیسے درست ردعمل ہے؟ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی باتیں کرتے تھے اور آج ہم کیا کر رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ ردعمل بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہیئے تھیں، آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے۔ عالمی سطح پر عالمی امن سے حکومت نیک نامی کما رہی ہے تو پاکستان میں نیک نامی گنوا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف جیسے بیانات اشتعال کو بڑھائیں گے، اپوزیشن کو مجبور نہ کریں، ہم نے چارسدہ میں لاکھوں کا اجتماع کیا، حکومتی پارٹی ایسے جلسے کرکے دکھا دے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی فوج کو سرحدوں میں ہونا چاہیے لیکن اسے ملک کے اندر استعمال کیا جا رہا ہے، ہم اسٹیبلشمنٹ اور تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں، اگر وہ انتخابات میں نتائج تبدیل کرتے ہیں تو پھر ہم جواب دیں گے، اگر وہ سیاست کریں گے تو ہم سیاست میں جواب دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم گونگے نہیں ہیں اور گونگے شیطان نہیں بنیں گے، ہم خاموش نہیں رہیں گے ہم بات کریں گے۔ اگر ادارے ٹیکس کے پیسے لیکر اس کا سیاسی استعمال کریں گے تو پھر اس ایوان میں جواب دیں گے۔
امیر جے یو آئی نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف بتائیں گے کہ جب ہم کنٹینر پر ہوتے تھے تو کیا وہ آرمی چیف اور فوج کا نام نہیں لیتے تھے، کیا ان کے ساتھ اسٹیج سے فوج کو محکمہ زراعت نہیں کہا جاتا تھا۔
معاون خصوصی برائے سیاسی امور
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کی بات ہے، ہم خوش آمدید کہیں گے لیکن میں چند حقائق مولانا فضل الرحمٰن کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اڑتیس مطالبات پیش کیے، وزیر اعظم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کی اور ہم نے مظفر آباد جا کر ان سے مذاکرات کیے، بجلی کے ریٹ سے متعلق وزیراعظم نے فوری طور پر مطالبہ منظور کیا اور گندم پر دو ہزار روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ اسپتالوں میں مختلف مشینوں کے حوالے سے مطالبات منظور کیے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ مہاجرین کی سیٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن سیٹیں ختم کرنے کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی کر سکتی ہے، اس حوالے سے 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس کمیٹی کا بائیکاٹ کیا۔ نوجوانوں کا احتجاج کرنے کے اعلان کا مقصد انتخابات کو روکنا تھا۔