نواسہ رسولؐ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں نکلنے والے جلوس اختتام پذیر

حساس علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اور دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، تمام جلسوس پُرامن طور پر اختتام پذیر


ویب ڈیسک June 26, 2026

نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں ملک بھر میں یوم عاشور کے سلسلے میں چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی جلوس برآمد ہوئے اور مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اپنی اپنی منازل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئے اور اس دوران ملک بھر میں امن و امان برقرار رہا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق واقعہ کربلا کے شہدا کی یاد میں کراچی، لاہور، راولپنڈی، سکھر، حیدرآباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک کے چھوٹے بڑے علاقوں میں ماتمی جلوس برآمد ہوئے اوراس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

ملک بھر میں جلوسوں کے روٹ پر غیر ضروری آمدورفت کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیا گیاجبکہ حساس علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس اور دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کے تحت اسلحے کی نمائش پر پابندی تھی۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں تعزیتی جلسے، جلوس اور مجالس کا انعقاد کیا گیا جن میں حضرت امام حسینؓ کی قربانیوں کا ذکر کیا جائے گا اور شہدائے کربلا کی عظمت کو اجاگر کیا گیا۔

یوم عاشور کی مناسبت سے ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تمام اہم شہروں میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔

جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر خصوصی چیک پوسٹیں قائم کی گئیں اور سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یوم عاشور کے دوران موبائل فون سروس کو بعض علاقوں میں جزوی طور پر معطل رکھا گیا۔ یہ اقدام عوامی تحفظ کے لیے کیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے بچا جاسکے۔

عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

واضح رہے کہ یوم عاشورہ کا دن مسلمانوں کے لیے صبر، قربانی، اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کا پیغام ہے۔ اس دن حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ خانہ اور ساتھیوں کے ہمراہ کربلا کے میدان میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے باطل کے خلاف حق کی آواز بلند کی تھی اور اس عظیم قربانی کی یاد میں ہر سال یہ دن مذہبی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔

کراچی میں نشتر پارک سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس حسینہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر، لاہور میں گامے شاہ، روالپنڈی میں امام بار گاہ عاشق حسین سے مرکزی جلوس برآمد ہوکر جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے مقررہ امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوئے۔

لاہور میں نثار حویلی سے شبیہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس برآمد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عزادار شریک ہوئے۔ مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہو کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

پشاور میں یوم عاشورہ کا پہلا جلوس امام بارگاہ آغا سید علی رضی شاہ برآمد ہو گا جس میں مزید 12 جلوس شامل ہوئے اور پھر یہ اپنی منزل پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔

کوئٹہ میں عاشورہ کا جلوس امام بارگاہ حسینی سادات سید آباد علمدار روڈ سے ساڑھے 8 بجے برآمد ہوا جو شام مغربین کے بعد اختتام پذیر ہوا۔

کوئٹہ میں شبیہ ذوالجناح اور علم و تعزیوں کے کل 35 دستے شامل ہوئے جبکہ جلوس کے راستوں میں ناشتے،ٹھنڈے پانی،شربت کی سبیلیں جبکہ امدادی کیمپ بھی لگائے گئے۔

شام غریباں

جلوسوں کے اختتام کے بعد شام غریباں کا انعقاد کیا گیا، جس میں ذاکرین واقعہ کربلا کے بعد پیش آنے والے حالات کو بیان کیا اور پھر عزاداروں نے غم حسین میں ماتم کیا جس کے بعد وہ گھروں کو روانہ ہوگئے۔