برطانیہ کی ایک عدالت نے مانچسٹر ایئرپورٹ پر ہنگامہ آرائی کے دوران دو خواتین پولیس افسران پر حملہ کرنے کے الزام میں 21 سالہ محمد فاہر کو ساڑھے تین سال قید کی سزا سنا دی۔
برطانوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ برس مانچسٹر ایئرپورٹ کے ٹرمینل ٹو پر پیش آیا تھا، جہاں محمد فاہر اور ان کے اہل خانہ کا ایک دوسرے شخص سے جھگڑا ہوگیا۔
ماہر کا مؤقف تھا کہ اس شخص نے ان کی والدہ کے خلاف نسلی تعصب پر مبنی نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے جس پر اس شخص کو معافی مانگنی چاہیے۔
تاہم وہ شخص معافی مانگنے کے بجائے جھگڑنے لگا جس کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور حالات قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران محمد فاہر نے مزاحمت کرتے ہوئے دو خواتین پولیس افسران پر حملہ کر دیا۔
عدالت میں پیش کیے گئے شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق محمد فاہر نے ایک خاتون افسر کو زور دار مکا مارا جس سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی جبکہ دوسری خاتون افسر بھی حملے میں زخمی ہوئیں۔
اس واقعے کے دوران پولیس کے دیگر اہلکار بھی متاثر ہوئے اور ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے افراتفری پھیل گئی۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اہلکار معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور ان پر کیا گیا تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ ایک سنگین جرم ہے خصوصاً ایسے حساس مقام پر جہاں عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہوتی ہے۔
عدالت نے محمد فاہر کو ساڑھے تین سال قید کی سزا سناتے ہوئے کہا کہ اگرچہ واقعے سے قبل جھگڑے کی ایک وجہ موجود تھی تاہم اس سے پولیس اہلکاروں پر تشدد کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔
فیصلے کے بعد گریٹر مانچسٹر پولیس نے کہا کہ پولیس افسران پر حملہ ناقابل قبول ہے اور ایسے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
پولیس نے اس فیصلے کو قانون کی بالادستی اور پولیس اہلکاروں کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔