رینجرز کے جوانوں نے بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے گلستان جوہر موسمیات چورنگی کے قریب رینجرز ٹرانسپورٹ ورکشاپ پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا ، رینجرز کے جوانوں نے دہشت گردوں کے عزائم خاک میں ملا دیئے اور ورکشاپ میں داخلے میں ناکامی پر ایک دہشت گرد حملہ آور نے مبینہ طور پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے بعد شدید فائرنگ اور دھماکوں کی بھی آوازیں سنائی دیں۔
واقعے کی تفصیلات ، سیکیورٹی اہلکاروں کی ممکنہ شہادت یا زخمی ہونے سمیت دھماکے کی نوعیت اور مارے جانے دہشت گردوں کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اعلامیہ یا موقف سامنے نہیں آیا۔
ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موسمیات چورنگی کے قریب دھماکے کی آواز سننے اور فائرنگ کے مبینہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف سے رابطہ کیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی پولیس چیف سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ واقعہ کس طرح پیش آیا ہے ، فوری طور پر پولیس جائے وقوع پر پہنچے اور ضروری اقدامات کرے دوسری جانب موقع پر موجود پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی حتمی نوعیت تفتیش کے بعد واضح ہو سکے گی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 ، چھیپا اور ایدھی کے رضا کار ایمبولینسوں کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ، رات گئے تک سیکیورٹی اداروں کی جانب سے رینجرز روکشاپ کی سرچنگ اور کلیئرنس کا عمل جاری رہا جبکہ جائے وقوعہ سے انسانی اعضا بھی ملے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہفتے کی شب سوا آٹھ بجے کے قریب اطلاعات سامنے آئیں کہ گلستان جوہر بلاک 6 محمکہ موسمیات کے قریب رینجرز کے ٹرانسپورٹ ورکشاپ پر کوئی حملہ ہوا ہے جس میں دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دی ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی رینجرز اور پولیس کی بھاری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا اس دوران یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ نامعلوم دہشت گردوں نے ورکشاپ پر مبینہ طور پر دھماکا کر کے اندر داخل ہوگئے اس اطلاع پر رینجرز کے کمانڈوز سمیت بھاری نفری نے ورکشاپ میں داخل ہوگئی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کردی اور وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں بھی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس مبینہ حملے میں دھماکا اتنا زور دار تھا کہ محلقہ آبادی میں قائم عمارتوں اور گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ علاقہ مکینوں کی بہت بڑی تعداد خوفزدہ ہو کر گھروں نے باہر نکل آئے جبکہ موقع پر موجود افراد میں بھگدڑ مچ گئی اور خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ٹریفک کی روانی بھی شدید متاثر ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق جائے وقوعہ کے اطراف میں اندھیرا ہوگیا اور وہاں تک جانے والے راستوں کو پولیس اور رینجرز نے سیل کر دیا اور پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا اس دوران آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد واپس چلے گئے۔
جبکہ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ ، سی ٹی ڈی اور ایس ایس یو سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ رینجرز کے مقامی ورکشاپ پر کیا گیا ہے تاہم حملے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔
اور یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ دہشت گردوں نے ابتدائی طور پر گیٹ پر حملہ کیا جس کے بعد وہ اندر داخل ہوئے جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ابتدائی حملہ خودکش بتایا جا رہا ہے جس کی ابھی مزید تصدیق کرنا باقی ہے تاہم یہ تمام باتیں قبل از وقت ہیں پولیس اور تحقیقات ادارے ان تمام پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے جانب سے سرچنگ اینڈ کلیرنس آپریشن جاری ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد ہی مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد کا تعین کیا جا سکے گا ، اطلاعات کے مطابق رینجرز ٹرانسپورٹ ورکشاپ پر حملے کے بعد سرچنگ اور سرویلنس آپریشن کے دوران جدید ڈرونز کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
رینجرز کی جانب سے جاری آپریشن کے دوران ممکنہ طور پر متعدد دہشت گردوں کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے بھی کوئی تصدیق نہیں آسکی جبکہ دہشت گردوں کے حملے میں رینجرز کے اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات آئیں ہیں جس میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جنھیں فوری طور پر قریبی نجی اسپتالوں میں لیجایا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ رینجرز کی ٹرانسپورٹ تنصیبات پر ہوا ہے حملے میں 5 سے 6 دہشت گرد مارے جانے کی اطلاعات ہیں جبکہ سیکیورٹی اداروں نے سرچنگ اینڈ کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا ہے۔
جبکہ سوشل میڈیا پر رینجرز کی ٹرانسپورٹ تنصیبات پر حملے کی زمہ داری مبینہ طور پر تنظیم جماعت الاحرار کی جانب سے قبول کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے جبکہ حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور زخمی ہونے کے حوالے سے رات گئے تک سرکار سطح پر کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
واقعے کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات دیکھنے میں آئے جس کے بعد تمام حساس سرکاری ، عسکری اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والے تمام اہم راستوں پر پولیس ، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری کو تعینات کر دیا گیا۔
جبکہ شارع فیصل پر ایئرپورٹ جانے والی گاڑیوں کی بھی سخت تلاشی اور چیکنگ کا عمل شروع کر دیا گیا جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے مختلف مقامات پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔
رینجرز ہیڈکوارٹرز پر حملے کی مذمت
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے گلستان جوہر میں پاکستان رینجرز کے دفتر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حملے میں شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کرنے پر جوانوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں زخمی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں، دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں، کسی بھی قسم کی دہشت گردی سے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے، پوری قوم افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
جامعہ بنوریہ عالمیہ کے مہتمم ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے بھی رینجرز کمپاؤنڈ پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ رینجرز کمپاؤنڈ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، سیکیورٹی اداروں پر حملے ملکی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے لیکن دہشت گرد عناصر اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم نے کہا کہ بروقت کارروائی سے حملے کو ناکام بنانے پر رینجرز کے جوان خراج تحسین کے مستحق ہیں، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
جامعہ بنوریہ کے مہتمم نے کہا کہ شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور زخمی رینجرز اہلکار کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں، افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کی قربانیاں قوم کا قابل فخر سرمایہ ہیں۔
معروف عالم دین علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ پاک رینجرز پر بزدلانہ دہشت گردی کے حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، عاشورہ محرم پر رینجرز نے امن و امان قائم رکھنے کے لیے احسن کردار ادا کیا، شہید جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان کے خلاف پوری ملت جعفریہ پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
مجلس وحدت المسلمین کراچی کے صدر کاظم عباس نے مذمتی بیان میں کہا کہ سیکیورٹی اداروں پر بزدلانہ دہشت گردی کی کاروائی کی مذمت کرتے ہیں، پوری قوم سیکیورٹی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے لیے ملک گیر آپریشن ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد عناصر کے پیچھے بھارت اور اسرائیل ملوث ہیں، شہید اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور تمام زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔