بنگلورو کے ڈے کیئر میں بچوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، واشنگ مشین اور باتھ روم میں بند کرنے کا انکشاف

وائرل ویڈیوز میں دو سے تین سال کی عمر کے بچوں کے ساتھ انتہائی نامناسب اور غیر انسانی سلوک دکھایا گیا ہے


ویب ڈیسک July 02, 2026

بھارت کے شہر بنگلورو میں ایک کارپوریٹ ڈے کیئر سینٹر سے سامنے آنے والی مبینہ بدسلوکی کی ویڈیوز نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ بچوں کے حقوق سے متعلق ادارے بھی معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ کیپ جیمینی (Capgemini) کے کیمپس میں قائم ایک ڈے کیئر سینٹر میں پیش آیا، جہاں ملازمین اپنے کم عمر بچوں کو کام کے دوران چھوڑتے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر دو سے تین سال عمر کے بچوں کے ساتھ انتہائی نامناسب اور غیر انسانی سلوک دکھایا گیا، جس کے بعد والدین اور عوام میں شدید تشویش پیدا ہوگئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈے کیئر میں کام کرنے والی پانچ خواتین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ویڈیوز میں بعض بچوں کو سزا کے طور پر باتھ روم میں بند کرتے، فرنٹ لوڈنگ واشنگ مشین کے ڈرم کے اندر بٹھاتے اور ٹوائلٹ جیٹ سے ان کے منہ میں پانی مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بچوں کو صرف رونے کی وجہ سے یہ سلوک برداشت کرنا پڑا۔ پولیس اب سی سی ٹی وی فوٹیج، وائرل ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب والدین نے ڈے کیئر کے ماحول پر تحفظات کا اظہار کیا اور بعد ازاں متعلقہ ویڈیوز حکام تک پہنچ گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ڈے کیئر بروک فیلڈ کے علاقے میں واقع ہے اور کیپ جیمینی کے HAL کیمپس میں کام کرنے والے ملازمین کے بچوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

واقعے کے بعد کیپ جیمینی نے تحقیقات مکمل ہونے تک ڈے کیئر سینٹر کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی برداشت نہیں کی جا سکتی اور وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، جبکہ اندرونی سطح پر بھی الگ تحقیقات جاری ہیں۔

اس معاملے کا نوٹس کرناٹک اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے بھی لے لیا ہے، جو پولیس کے ساتھ مل کر شکایات کا جائزہ لے رہا ہے۔

پولیس کے مطابق اب تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور اگر شواہد سامنے آئے تو مزید دفعات شامل کرنے اور قانونی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔