صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے بی آر ٹی ییلو لائن میں ساڑھے 8 ارب روپے کی کرپشن کیس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر ملزم ضمیر عباسی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
صوبائی اینٹی کرپشن عدالت کے روبرو بی آر ٹی ییلو لائن میں ساڑھے 8 ارب روپے کی کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ اینٹی کرپشن حکام نے یلو لائن پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا۔ جج امین اللہ صدیقی نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا پروگریس ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ہم نے ملزم سے 128 سوالات کئے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ میں تفتیشی ٹیم کا حصہ ہوں۔ ملزم نے کہا کہ کیس کے 6 تفتیشی افسر ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تفتیشی افسر ایک ہی ہے، ہم معاون ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر صاحب آپ نے 128 سوال بنائے ہیں، یہ دستاویز چیک کی ہیں۔ کیا کنسلٹنٹ سے بات کرلی ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے کہا کہ نہیں کنسلٹنٹ سے بات نہیں ہوئی۔ عدلت نے استفسار کیا کہ ساڑھے 8 ارب کرپشن کا کیس ہے ایڈوانس کیسے جاری ہوا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ سے جو سوالات کئے ہیں، آپ کی باڈی لینگویج سے لگتاہے کہ آپ مطمن نہیں ہیں۔
ملزم نے کہا کہ سوالات ان کے ساؤنڈ تھے لیکن کیس سے تعلق نہیں ہے۔ یلو لائن منصوبہ جاری ہے اور اس میں ایک پیسہ بھی ادھر ادھر نہیں ہوا، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ سے ورلڈ بینک کو کیا شکایت تھی۔ ملزم ضمیر عباسی نے کہا کہ ورلڈ بینک نے کوئی شکایت نہیں کی۔ کوئی کرپشن کی ہی نہیں تو شکایت کیسی۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے مکالمہ میں کہا کہ آپ تفتیشی افسر ہیں آپ کی کچھ ٹیوننگ میڈیا نے کردی یا آپ بھی اب کچھ کریں گے۔ اس کیس میں کنسلٹنٹ کون ہے؟ تفتیشی افسر نے کہا کہ کنسلٹنٹ نیسپاک ہے۔ رکن کمبائنڈ انوسٹیگیشن ٹیم نے کہا کہ غیر محفوظ ادائیگی کی گئی ہے بغیر کسی بینک گارنٹی کے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اب کیا 90 روز مکمل کریں گے تفتیش میں؟ اینٹی کرپشن حکام نے کہا کہ کوشش ہے کہ 90 روز سے پہلے انوسٹیگیشن مکمل کرلیں۔ ملزم نے کہا کہ مجھ پر الزام لگتا تھا کہ بینک گارنٹی کے بغیر ادائیگی کی ہے، کنسلٹنٹ کون ہے سب کو پتہ ہے۔ ایک روپے کا حکومت کو نقصان نہیں ہوا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ورلڈ بینک کو کیا شکایت تھی جو انہوں نے لکھا ہے کہ شاید فنڈز صحیح استعمال نہیں ہوا ہے۔ ملزم نے کہا کہ ہر 3 ماہ ورلڈ بینک کا مشن آتا ہے، میرے دور میں 3 مشن آئے تھے۔ ورلڈ بینک نے ڈسپرسمنٹ بڑھائیں ورنہ مزید پیمنٹ نہیں ملے گی۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ نے قانون کے مطابق کام کیا ہے تو یہ صورت حال کیوں پیدا ہوئی ہے۔ ملزم نے کہا کہ جب بھی ورلڈ بینک کا مشن آتا تھا، میں ان کو سائٹ پر لے جاتا تھا۔ عدالت نے ملزم سے مکالمے میں کہا کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ ہی ورلڈ بینک والوں کو ہینڈل کر سکتے ہیں، اتنا کانفیڈنس اچھا نہیں ہے۔
عدالت نے ملزم ضمیر عباسی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ ملزم ضمیر عباسی کی جانب سے درخواست ضمانت دائر کردی گئی۔ عدالت نے ملزم ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت کی کاپی سرکاری وکیل کو فراہم کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے 11 جولائی تک پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔