لاہور:
غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم وحید طاہر عرف باس کا کرائم ریکارڈ سامنے آگیا۔
وحید طاہر عرف باس کے خلاف لاہور میں کئی مقدمات درج ہیں، جو قتل، چیک ڈس آنر سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیے گئے۔ تھانہ باٹا پور، اسلام پورہ، جوہر ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، کاہنہ اور ڈیفنس اے میں مقدمات درج کیے گئے۔
کرائم ریکارڈ کے مطابق ملزم تین مقدمات کا مدعی اور تین میں گواہ ہے، ملزم کے خلاف پہلا مقدمہ 2020 اور آخری 2023 میں درج ہوا۔
درج ایف آئی آرز کے مطابق ملزم وحید غیر قانونی طور پر گردہ ٹرانسپلانٹ میں ملوث بدنام زمانہ گینگ کا حصہ بھی نکلا، ملزم کے خلاف گردہ ٹرانسپلانٹ کے حوالے سے درج تین مقدمات کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
ملزم کے خلاف قتل، اغوا، لیور ٹرانسپلانٹ، تشدد، دھمکیوں کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں، ملزم دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر جناح ہسپتال آیا مریض کا نجی کلینک میں گردہ نکالا جس کا گارڈن ٹاؤن پولیس نے اگست 2023 میں مقدمہ درج کیا۔
ملزم کے خلاف گردہ ٹرانسپلانٹ کے لیے نجی کلینک چلانے کا مقدمہ تھانہ کاہنہ میں 2024ء میں درج ہوا، ملزمان وحید گرفتاری کی کوشش کے دوران پولیس حراست سے گردہ ٹرانسپلانٹ کے مرکزی کردار ڈاکٹر فواد کو پولیس حراست سے چھڑوا کر فرار ہوا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم کے خلاف باٹا پور تھانہ میں قتل،اغواء کا مقدمہ جون 2020ء میں درج ہوا۔ مقتول کے ورثاء کی جانب سے ایف آئی آر میں گردہ نکالنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ اسلام پورہ میں ملزم کے خلاف فراڈ اور دھمکیوں کا مقدمہ ستمبر 2022 میں درج ہوا
دو مقدمات میں ملزمان ایف آئی آر میں نامزد ہے جبکہ دو میں ضمنی طور پر میں نامزد کیا گیا، وحید تین مقدمات کا مدعی، تین مقدمات کا گواہ جبکہ چار مقدمات میں نامزد ملزم ہے۔
واضح رہے کہ غیر ملکی خاتون کی مدعیت میں تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج ہے، مقدمے میں باس کا ذکر ہے اور نامزد ملزم بھی ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے او مختلف ٹیمیں کام کر رہی ہیں، تمام ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
قبل ازیں، غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق غیر ملکی خواتین سے زیادتی کرنے والے ملزمان کا ڈی این اے میچ ہوگیا ہے۔ زیادتی کرنے والے ملزمان میں نواز بھی شامل ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزم نواز نے سب سے پہلے غیر ملکی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور ملزم نواز کے اکسانے پر دیگر ملزمان نے بھی زیادتی کی۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈی این اے رپورٹ تفتیش کا حصہ بنا دی گئی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔