کیوبا ایک بار پھر اندھیرے میں ڈوب گیا، چھ ماہ میں تیسرا ملک گیر بلیک آؤٹ

بعض علاقوں میں 24 گھنٹے سے زیادہ جبکہ دیہی علاقوں میں 70 گھنٹے تک مسلسل بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے


ویب ڈیسک July 07, 2026

ہوانا: کیوبا ایک مرتبہ پھر ملک گیر بجلی کے بلیک آؤٹ کا شکار ہو گیا ہے۔

سرکاری بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے تصدیق کی ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک یہ تیسرا جبکہ 2024 کے آخر سے آٹھواں ملک گیر بلیک آؤٹ ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کیوبا کے سرکاری بجلی کے ادارے یو این ای نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ قومی بجلی پیدا کرنے والا نظام مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے اور ماہرین بلیک آؤٹ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تقریباً 96 لاکھ آبادی والا کیوبا پہلے ہی بجلی کے شدید بحران کا شکار تھا، تاہم جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیل کی فراہمی پر سخت پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ ایندھن کی قلت کے باعث بجلی گھروں کو چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں روزانہ کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ بعض علاقوں میں 24 گھنٹے سے زیادہ جبکہ دیہی علاقوں میں 70 گھنٹے تک مسلسل بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے۔

کیوبا کا بجلی پیدا کرنے کا نظام زیادہ تر سوویت دور کے پرانے تھرمل پاور پلانٹس پر مشتمل ہے، جو طویل عرصے سے خراب حالت میں ہیں اور مطلوبہ استعداد کے مطابق بجلی فراہم نہیں کر پا رہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے جنوری کے بعد سے صرف ایک روسی آئل ٹینکر کو کیوبا میں لنگر انداز ہونے کی اجازت دی، جس کے باعث ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوئی اور بجلی کا بحران مزید گہرا ہو گیا۔

اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ کیوبا میں خوراک، پینے کے صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث ملک انسانی بحران کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

کیوبا کی حکومت نے بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے، تاہم اس وقت ملک کی مجموعی توانائی کا صرف تقریباً 10 فیصد حصہ شمسی توانائی سے حاصل ہو رہا ہے، جو موجودہ ضرورت پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی فراہمی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں کیوبا کا توانائی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔