شام کے دارالحکومت دمشق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے دورے کے دوران اس ہوٹل کے قریب دھماکے ہوئے جہاں ان کے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، تاہم فرانسیسی حکام کے مطابق صدر میکرون محفوظ رہے اور ان کے سرکاری پروگرام معمول کے مطابق جاری رہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ دھماکے ہوٹل کے قریب نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے کے باعث ہوئے، جس کے بعد متاثرہ علاقے کی سڑکیں فوری طور پر بند کر دی گئیں اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔
رائٹرز کے نمائندے کے مطابق دھماکوں کی آوازیں دور تک سنی گئیں جبکہ جائے وقوعہ سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ تاہم فرانسیسی ایوانِ صدر (ایلیزے) نے کہا کہ صدر میکرون کے قافلے تک دھماکوں کی آواز نہیں پہنچی اور وہ مکمل طور پر محفوظ رہے۔
واقعے کے کچھ ہی دیر بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے شام کے صدر احمد الشرع سے دمشق کے صدارتی محل میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے شام کی سیاسی صورتحال، دو طرفہ تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ دورہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ کسی یورپی یونین کے سربراہِ مملکت کا شام کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
https://x.com/iihtishamm/status/2074404215766831613
رپورٹ کے مطابق شام میں نئی حکومت کو ملک کی تعمیرِ نو، امن و امان کی بحالی اور مختلف مذہبی و نسلی گروہوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر احمد الشرع نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک جامع اور نمائندہ سیاسی نظام قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ملک میں وقفے وقفے سے ہونے والے پرتشدد واقعات اس عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔
تاحال دھماکوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی جبکہ شامی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔