عصر حاضر کی دنیا میں دشمن کا ہدف صرف سرحدوں پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ ریاست کے اعتماد، عوام کے حوصلے، قومی بیانیے اور اداروں کے باہمی ربط کو متزلزل کرنا بھی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے قومی سلامتی کے تصور کو محض عسکری دفاع سے نکال کر سیاسی استحکام، معاشی مضبوطی، اطلاعاتی تحفظ، سفارتی فعالیت اور سماجی ہم آہنگی تک وسیع کر دیا ہے۔ ایسے نازک اور پیچیدہ ماحول میں ہونے والی276 ویںکور کمانڈرز کانفرنس محض ایک معمول کی عسکری مشاورت نہیں بلکہ پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز کے تناظر میں ایک جامع ریاستی حکمت عملی کا اظہار معلوم ہوتی ہے، جس کے ہر نکتے میں مستقبل کی سمت کا واضح اشارہ پوشیدہ ہے۔
کانفرنس کا آغاز شہدائے وطن کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور اْن کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا۔ بظاہر یہ ایک روایتی عمل محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت یہی وہ فکری بنیاد ہے جس پر پاکستان کی قومی سلامتی کی پوری عمارت قائم ہے۔ کسی بھی قوم کی آزادی اور خودمختاری محض آئینی دفعات سے محفوظ نہیں رہتی بلکہ اْن بے شمار قربانیوں کی مرہون منت ہوتی ہے جو وطن کے دفاع کے لیے دی جاتی ہیں۔ شہداء کی یاد کو زندہ رکھنا دراصل اس عہد کی تجدید ہے کہ ریاست اپنے محافظوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور اْن کے مشن کو ہر حال میں آگے بڑھایا جائے گا۔ یہی احساس قومی وحدت کو مضبوط کرتا اور آنے والی نسلوں میں وطن سے وابستگی کو مہمیز دیتا ہے۔
اس کے بعد فورم کی جانب سے پاکستان کی سلامتی، اتحاد اور استقامت کو ریاست کی بنیادی اساس قرار دینا موجودہ حالات میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو ایک ایسے ہمہ جہتی دباؤ کا سامنا رہا ہے جس میں معاشی مشکلات، سیاسی کشیدگی، دہشت گردی کی نئی لہر، اطلاعاتی جنگ اور بیرونی مداخلت کی مختلف صورتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے ماحول میں سلامتی کا مفہوم صرف سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں رہتا بلکہ قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے باہمی اعتماد کو بھی اپنے دائرے میں شامل کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانفرنس کے اعلامیے میں اتحاد اور استقامت کو سلامتی کے ساتھ یکجا کرکے بیان کیا گیا، کیونکہ داخلی انتشار بیرونی دشمن کے لیے ہمیشہ سب سے موثر ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔
کانفرنس کا ایک نہایت اہم اور حساس پہلو افغان طالبان کے زیر انتظام علاقوں سے پاکستان کے خلاف بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار تھا۔ یہ مسئلہ محض سرحدی دراندازی کا نہیں بلکہ پورے خطے کے سلامتی کے ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران متعدد ایسے شواہد سامنے آ چکے ہیں جن سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان دشمن عناصر نے افغان سرزمین کو اپنی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، اگر کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین تیسرے فریق کے ذریعے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے لگے تو یہ صرف دوطرفہ تعلقات کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ بین الاقوامی ذمے داریوں اور ریاستی خودمختاری کا سوال بھی بن جاتا ہے۔
اسی لیے کور کمانڈرز کانفرنس نے واضح الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ خطے میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے موثر طور پر نہ روکا جائے۔یہاں ایک اور قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ فورم نے افغان قیادت کی ذمے داری کو بھی دوٹوک انداز میں بیان کیا۔ ہر خودمختار ریاست پر یہ بین الاقوامی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اْس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی یا تخریب کاری کے لیے استعمال نہ ہو، اگر یہ اصول کمزور پڑ جائے تو پورے خطے میں بداعتمادی، کشیدگی اور تصادم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن، استحکام اور اقتصادی بحالی کی حمایت کی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کا مستقبل جغرافیہ، تاریخ اور تہذیب کے مشترکہ رشتوں سے وابستہ ہے۔ تاہم دوستی اور حسن ِ ہمسائیگی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ افغان سرزمین پر موجود ایسے عناصر کے خلاف موثر کارروائی کی جائے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم ہیں۔
کانفرنس نے اس تناظر میں یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کو اپنی عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور اسی مقصد کے لیے آپریشن غضب للحق کے تحت انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ جدید انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی وسیع پیمانے کی روایتی کارروائیوں کے بجائے مستند اطلاعات، درست ہدف اور محدود مگر موثراقدامات پر زور دیتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے ایک طرف دہشت گرد نیٹ ورکوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور دوسری طرف عام شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ پاکستان کی ریاست دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم میں کسی تذبذب کا شکار نہیں بلکہ زمینی حقائق کے مطابق اپنی حکمت عملی کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے،تاہم دہشت گردی کا مسئلہ صرف عسکری کارروائیوں سے مکمل طور پر حل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس نے متاثرہ علاقوں میں بہترین طرز حکمرانی، موثرانتظامی ڈھانچے اور عوامی فلاح پر مبنی نظام کے قیام کو بھی ناگزیر قرار دیا۔ کانفرنس نے بیرونی مدد سے انتشار پھیلانے والی ہر کوشش کو بلا امتیاز اور بلا تردد سختی سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا۔
کانفرنس میں علاقائی استحکام کے فروغ اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا جانا بھی ایک اہم سفارتی اشارہ ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیا کا مستقبل تصادم میں نہیں بلکہ تعاون، تجارت، باہمی روابط اور اقتصادی انضمام میں پوشیدہ ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے متعدد علاقائی اور عالمی معاملات میں تحمل، مکالمے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دے کر ایک ذمے دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یہی رویہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اخلاقی اور سیاسی اعتبار سے تقویت بخشتا ہے، کیونکہ طاقت کا اصل اظہار صرف عسکری صلاحیت میں نہیں بلکہ بحرانوں کو دانش مندی سے سنبھالنے میں بھی ہوتا ہے۔
کانفرنس میں سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے بیانات کا نوٹس لینا بھی قومی مفادات کے تحفظ کا ایک اہم اظہار ہے۔ پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ مستقبل کی عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کا بنیادی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے آبی حقوق کا تحفظ محض زرعی ضرورت نہیں بلکہ قومی بقا سے وابستہ معاملہ ہے۔ یہ اطمینان بخش امر ہے کہ افواج پاکستان نے حکومت کی پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایات کے مطابق پاکستان کے جائز آبی حصے کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے، کیونکہ پانی پر کوئی بھی سمجھوتہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر سمجھوتے کے مترادف ہوگا۔ اسی طرح کور کمانڈرز کانفرنس میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں دوٹوک موقف کا اعادہ بھی پاکستان کی مستقل قومی پالیسی کی توثیق ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے تمام کمانڈرز کو جنگ کے بدلتے ہوئے کردار کے مطابق ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان پر تیزی سے عمل درآمد کی ہدایت بھی مستقبل کی جنگی حکمت عملی کی عکاس ہے۔ جدید جنگ اب صرف خشکی، سمندر اور فضاء تک محدود نہیں رہی بلکہ خلائی، سائبر، اطلاعاتی، برقی اور مصنوعی ذہانت کے میدان بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس لیے قومی دفاع کو بھی انھی تقاضوں کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
276ویں کور کمانڈرز کانفرنس کا اعلامیہ دراصل اسی جامع سوچ کا آئینہ دار ہے۔ اس میں دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم بھی موجود ہے، بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت کا ادراک بھی، جدید جنگی تقاضوں کی تیاری بھی، قومی وسائل کے تحفظ کا احساس بھی، کشمیر اور آبی حقوق پر اصولی مؤقف بھی اور علاقائی امن کے لیے تعمیری سفارت کاری کا پیغام بھی۔ ان تمام نکات کا حاصل یہی ہے کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز اگرچہ پیچیدہ اور کثیرالجہت ہیں، مگر ان کا مقابلہ قومی اتحاد، ریاستی استحکام، مؤثر حکمرانی، مضبوط معیشت، فعال سفارت کاری اور جدید دفاعی تیاری کے امتزاج سے ہی ممکن ہے۔ آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ پوری قوم اختلافات کی گرد سے بلند ہو کر قومی مفاد کو اپنی اجتماعی سوچ کا مرکز بنائے، کیونکہ جب ریاست کے تمام ستون ایک ہی سمت میں استوار ہوں تو بیرونی سازشیں دم توڑ دیتی ہیں، دہشت گردی شکست کھا جاتی ہے، جھوٹے بیانیے اپنی تاثیر کھو بیٹھتے ہیں اور پاکستان کا پرچم امن، وقار اور خودمختاری کی علامت بن کر مزید سربلند ہوتا ہے۔